بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

نماز کے وقت کاروبار میں مشغول رہنا حرام ہے

سوال:۔

ایک آدمی دُکان کرتا ہے یا کوئی بھی کاروبار کرتا ہے، جب اَذان ہوتی ہے تو نماز نہیں پڑھتا یا جماعت سے نہیں پڑھتا، تو اس کا نماز کے وقت کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اور جو رقم اس نے نماز کے وقت کمائی حلال ہے یا کہ حرام؟

جواب:۔

کمائی تو حرام نہیں،(۱) مگر کاروبار میں اس طرح مشغول رہنا کہ نماز فوت ہوجائے یا جماعت کا اہتمام نہ کرنا حرام ہے۔(۲)

  1. (۱) وكرہ تحریمًا مع الصحۃ البیع عند الأذان الأوّل۔ قولہ وكرہ تحریمًا مع الصحۃ أشار إلٰی وجہ تأخیر المكروہ عن الفاسد مع اشتراكھما فی حكم المنع الشرعی والْإثم وذٰلك أنہ دونہ من حیث صحتہ وعدم فساد، لأن النھی باعتبار معنی مجاور للبیع لَا فی صلبہ ولَا فی شرائط صحتہ ومثل ھٰذا النھی لَا یوجب الفساد بل الکراھیۃ كما فی الدرر۔ (شامی ج:۵ ص:۱۰۱، مطلب أحکام نقصان المبیع فاسدًا)۔
  2. (۲) باب قضاء الفوائت، لم یقل المتروکات ظنا بالمسلم خیرًا إذ التأخیر بلا عذر كبیرۃ لَا تزول بالقضاء بل بالتوبۃ أو الحج۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۶۲، كتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت)۔