بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

مطلب براری کے بعد نماز، روزہ چھوڑ دینا بہت غلط بات ہے

سوال:۔

جناب بہت سے دوستوں میں یہ بات زیرِ بحث ہوتی ہے کہ ہمارے کچھ دوست جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور جب ان کا مطلب نکل جاتا ہے تو نماز پھر چھوڑ دیتے ہیں۔

میں اور میرے بہت سے دوست کہتے ہیں کہ آدمی نماز، روزہ رکھے اور پڑھے، لیکن فرض سمجھ کر، یہ نہیں کہ جب کوئی مصیبت آئی یا کوئی کام اٹک گیا تو نمازیں شروع، اور جب کام نکل گیا تو پھر اللہ کو بھول گئے۔ میں اور میرے دوست بھی کچھ ایسے ہیں جو کہ نماز نہیں پڑھتے، لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ تم نماز پڑھو، تمہارا فلاں کام ہوجائے گا، یا مثلاً ایک دو دوستوں کا ویزا نہیں مل رہا ہے سعودی عرب کا اور دُوسرے لوگ ان کو کہتے ہیں کہ نماز پڑھو اور اللہ سے دُعا کرو، تمہارا ویزا آجائے گا، لیکن میں اور میرے دوست کہتے ہیں کہ صرف ویزے کے لئے نماز پڑھنا، یعنی لالچ کے تحت اللہ کے دربار میں حاضر ہونا اور جب کام نکل جائے تو پھر نمازیں چھوڑ دینا صحیح نہیں ہے۔

جواب:۔

دُنیوی غرض کے لئے نماز، روزہ کرنا اور کام نکل جانے کے بعد چھوڑ دینا بہت ہی غلط بات ہے، اور اس سے زیادہ غلط بات یہ ہے کہ آدمی اپنی حاجت اور ضرورت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رُجوع نہ ہو۔ نماز، روزہ اور دیگر عبادات محض اللہ تعالیٰ کا حق سمجھ کر کرنی چاہئیں، خواہ تنگی ہو یا فراخی، ہر حال میں کرنی چاہئیں۔ صرف دُنیوی مفادات کو پیشِ نظر نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ آخرت کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی مطمحِ نظر ہونی چاہئے۔ الغرض آپ کا اور آپ کے دوستوں کا یہ نظریہ تو صحیح ہے کہ صرف دُنیوی مشکل حل کرانے کے لئے نماز، روزہ کرنا، اور مشکل حل ہونے کے بعد چھوڑ دینا غلط ہے، لیکن یہ صحیح نہیں کہ مشکل وقت میں بھی اللہ تعالیٰ سے رُجوع نہ کیا جائے۔