بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

نماز کے لئے مصروفیت کا بہانہ لغو ہے

سوال:۔

اسلام چودہ سو سال پرانا مذہب ہے، اس زمانے میں لوگوں کی ضروریات بہت کم ہوتی تھیں، مصروفیات بھی کم ہوتی تھیں، فارغ وقت لوگوں کے پاس بہت ہوتا تھا، پانچ وقت نماز ادا کرنا ان کے لئے معمولی بات تھی، مگر اب حالات بہت مختلف ہیں، زندگی بہت مصروف ہوگئی ہے، اگر نماز صرف صبح و شام پڑھ لی جائے تو اس بارے میں آپ لوگ کیا کہیں گے؟ کیونکہ رات کو سونے سے پہلے اور صبح کو دفتر جانے سے پہلے یا دیگر کاموں سے پہلے ہی دو اوقات ذرا فرصت کے ہوتے ہیں، جن میں انسان خدا کو دِل سے یاد کرسکتا ہے۔

جواب:۔

پانچ وقت کی نماز فرض ہے،(۱) اور ان کے جو اوقات متعین ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی،(۲) مصروفیت کا بہانہ لغو ہے۔ سوال کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لوگوں کے لئے تھی، بعد کے لوگوں کے لئے نہیں۔ ایسا خیال کفر کے قریب ہے، آج کے دور میں لوگ تفریح پر، دوستوں کے ساتھ گپ شپ پر اور کھانے وغیرہ پر گھنٹوں خرچ کردیتے ہیں، اس وقت ان کو اپنی مصروفیات یاد نہیں رہتیں، آخر مصروفیت کا سارا نزلہ نماز ہی پر کیوں گرایا جاتا ہے؟ اور وقت میں کفایت شعاری صرف نماز ہی کے لئے کیوں روا رکھی جاتی ہے۔۔۔؟

  1. (۱) عن عبادۃ بن الصامت قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خمس صلوات افترضھن اللہ تعالٰی من أحسن وضوئھن وصلاھن لوقتھن وأتم ركوعھن وخشوعھن کان لہ علی اللہ عھد أن یغفر لہ، ومن لم یفعل فلیس لہ علی اللہ عھد إن شاء غفر لہ وإن شاء عذبہ۔ رواہ أحمد وأبوداوٗد وروی مالك والنسائی نحوہ۔ (مشكوٰۃ ص:۵۸، كتاب الصلاۃ)۔
  2. (۲) ﵟ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا ﵞ النساء ١٠٣۔