بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

نماز قائم کرنے اور نماز پڑھنے میں کیا فرق ہے؟

سوال:۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نماز قائم کرو، جبکہ ہمارے مولوی صاحبان اور علماء ہمیشہ اس بات کو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز پڑھو، نہ قرآن شریف میں یہ حکم آیا ہے کہ نماز پڑھو، اور نہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوجائے۔ آپ مہربانی کرکے اس بات کی وضاحت کردیں کہ نماز پڑھنے اور قائم کرنے میں کیا فرق ہے؟ اور کیا ہم نماز قائم کرنے کے بجائے پڑھیں تو ثواب ملتا ہے؟

جواب:۔

نماز قائم کرنے سے مراد ہے اس کی تمام شرائط و آداب کے ساتھ خوب اِخلاص و توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ اسے ادا کرنا۔(۱) اسی کو ہماری زبان میں نماز پڑھنا کہتے ہیں، لہٰذا نماز پڑھنے اور ’’نماز ادا کرنے‘‘ کا ایک ہی مفہوم ہے، دو نہیں، کیونکہ جب ’’نماز ادا کرنے‘‘ یا ’’نماز پڑھنے‘‘ کا لفظ کہا جاتا ہے تو اس سے نماز قائم کرنا ہی مراد ہوتا ہے۔

  1. (۱) قال ابن عباس: ویقیمون الصلٰوۃ أی یقیمون الصلاۃ بفروضھا۔ وقال الضحاك عن ابن عباس: إقامۃ الصلاۃ إتمام الركوع والسجود والتلاوۃ والخشوع والْإقبال علیھا فیھا، وقال قتادۃ: إقامۃ الصلاۃ المحافظۃ علٰی مواقیتھا ووضوئھا وركوعھا وسجودھا، وقال مقاتل بن حیّان: إقامتھا المحافظۃ علٰی مواقیتھا وإسباغ الطھور فیھا وتمام ركوعھا وسجودھا وتلاوۃ القرآن فیھا والتشھد والصلٰوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھٰذا إقامتھا۔ (تفسیر ابن كثیر ج:۱ ص:۱۵۸، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔