بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

نماز فرض ہے، داڑھی واجب ہے، دونوں پر عمل لازم ہے

سوال:۔

ایک شخص نماز نہیں پڑھتا، اس صورت میں داڑھی رکھی، کیا ثواب ملے گا؟ نماز پڑھنے والا ایک فرد جس نے داڑھی رکھی نہیں ہے، کیا اس کو نماز کا ثواب ملے گا؟ ایک شخص جس نے داڑھی رکھی تھی اب مونڈ ڈالی، لیکن اب نماز بھی پڑھتا ہے، کیا اس کو ثواب ملے گا؟

جواب:۔

نماز پڑھنا فرض ہے، اور اس کا چھوڑنا گناہِ کبیرہ اور کفر کا کام ہے، داڑھی رکھنا واجب اور اس کا کترانا یا مونڈنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے،(۱) مسلمان کو چاہئے کہ تمام فرائض و واجبات کی پابندی کرے اور اپنی آخرت اور قبر کے لئے زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرے، کیونکہ مرنے کے بعد نیکی نہیں کرسکے گا، اور یہ بھی ضروری ہے کہ حرام و ناجائز اور گناہِ کبیرہ کے تمام کاموں سے پرہیز کرے، اور اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو فوراً توبہ کرے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اِستغفار سے اس کا تدارک کرے، تاکہ اس کی عاقبت برباد نہ ہو۔ الغرض مسلمان راہِ آخرت کا مسافر ہے، اس کو لازم ہے کہ اس راستے کے لئے توشہ جمع کرنے کا حریص ہو اور راستے کی جھاڑیوں اور کانٹوں سے دامن بچاکے نکلے۔

اب اگر ایک شخص کچھ نیک کام کرتا ہے اور کچھ بُرے، تو قیامت کے دن میزانِ عدالت میں اس کی نیکیوں اور بدیوں کا موازنہ ہوگا، اگر نیکیوں کا پلہ بھاری رہا تو کامیاب ہوگا اور اگر خدانخواستہ بدیوں کا پلہ بھاری نکلا تو ذلت و رُسوائی اور ناکامی و بربادی کا منہ دیکھنا ہوگا، اِلَّا یہ کہ رحمتِ خداوندی کسی کی دستگیری فرمائے۔(۲) اس تقریر سے آپ کے سوال کا اور اس قسم کے تمام سوالات کا جواب معلوم ہوگیا۔

  1. (۱) وأخذ أطراف اللحیۃ والسُّنّۃ فیھا القبضۃ ۔۔۔ ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ۔ (الدر المختار مع ردالمحتار ج:۶ ص:۴۰۷، فصل فی البیع)۔ وأما الأخذ منھا وھی دون ذٰلك كما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنّثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (الدر المختار مع ردالمحتار ج:۲ ص:۴۱۸، مطلب فی الأخذ من اللحیۃ)۔
  2. (۲) ﵟ فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ ٦ فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ ٧ وَأَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ ٨ فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ ٩ ﵞ القارعة ٦ إلي ٩۔