نمازکیفرضیتواہمیت
اللہ تعالیٰ کو غفور رحیم سمجھ کر نماز نہ ادا کرنے والے کی سزا
سوال:۔
بعض لوگ بغیر کسی عذر کے نماز ترک کردیتے ہیں اور پھر کھیل، لغو باتوں، کام کاج اور دیگر مصروفیات میں مشغول رہتے ہیں، جب ان سے کہیں کہ نماز ترک کرنے سے خدا ناراض ہوجاتا ہے اور خدا کا عذاب بھی نازل ہوتا ہے، تو جواب ملتا ہے کہ خدا کی ذات ’’غفور رحیم‘‘ بھی ہے اور ہمیں معاف بھی کردے گا، اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
جواب:۔
اللہ تعالیٰ بلاشبہ ’’غفور رحیم‘‘ ہیں، لیکن ایسے ’’غفور رحیم‘‘ کی نافرمانی جب ڈھٹائی سے کی جائے اور نافرمانی کرنے والے کو اپنی حالت پر شرمندگی بھی نہ ہو تو اس کا قہر بھی نازل ہوسکتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص نے نمازِ پنج گانہ ادا کی قیامت کے دن اس کے لئے نور بھی ہوگا، اس کے ایمان کا برہان بھی ہوگا اور اس کی نجات بھی ہوگی اور جو ان کی پابندی نہ کرے، نہ اس کے لئے نور ہوگا، نہ اس کے ایمان کی دلیل ہوگی، نہ اس کی نجات ہوگی، اس کا حشر قارون، فرعون، ہامان اور اُبیّ بن خلف کے ساتھ ہوگا۔(۱) اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنے غضب سے پناہ میں رکھے! خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کا مکر اور دھوکا ہے کہ تم گناہ کئے جاؤ، اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں، وہ خود ہی بخش دیں گے۔ مؤمن کی شان یہ ہونی چاہئے کہ وہ اَحکامِ الٰہی کی پابندی کرے، گناہوں سے بچتا رہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی اُمید بھی رکھے، جیسا کہ ہم دُعائے قنوت میں کہتے ہیں: ’’نَرْجُوْا رَحْمَتَك وَنَخْشٰی عَذَابَك‘‘ (یا اللہ! ہم آپ کی رحمت کے اُمیدوار ہیں اور آپ کے عذاب سے ڈرتے ہیں)۔
- (۱) عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ ذكر الصلٰوۃ یومًا فقال: من حافظ علیھا کانت لہ نورًا وبرھانًا ونجاۃ یوم القیامۃ، ومن لم یحافظ علیھا لمتکن لہ نورًا ولَا برھانًا ولَا نجاۃ، وکان یوم القیامۃ مع قارون وفرعون وھامان واُبیّ بن خلف۔ (مشكوٰۃ ص:۵۹)۔

