بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

کیا بے نمازی کے دیگر اعمالِ خیر قبول ہوں گے؟

سوال:۔

بعض حضرات ایسے ہیں کہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، ہر طرح غرباء کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، لیکن جب ان سے کہا جائے کہ بھائی! نماز بھی پڑھ لیا کرو، تو کہتے ہیں: یہ بھی تو فرض عبادت ہے! کیا بے نمازی کے یہ سارے اعمال قبول ہوجاتے ہیں؟

جواب:۔

کلمۂ شہادت کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رُکن نماز ہے، نمازِ پنج گانہ ادا کرنے سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں اور نماز نہ پڑھنے سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں، زنا، چوری وغیرہ بڑے بڑے گناہ، نماز نہ پڑھنے کے گناہ کے برابر نہیں، پس جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ اگر خیر کے دُوسرے کام کرتا ہے تو ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ قبول نہیں ہوں گے، لیکن ترکِ نماز کا وبال اتنا بڑا ہے کہ یہ اعمال اس کا تدارک نہیں کرسکتے۔

ان حضرات کا یہ کہنا کہ ’’یہ بھی تو فرض عبادت ہے‘‘ بجا ہے، لیکن ’’بڑا فرض‘‘ تو نماز ہے، اس کو چھوڑنے کا کیا جواز ہے؟(۱)

  1. (۱) دیکھئے: الزواجر عن اقتراف الكبائر۔ (ج:۱ ص:۱۳۷ طبع بیروت)۔ أیضًا: عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: سألت النبی صلی اللہ علیہ وسلم: أی الأعمال أحب إلی اللہ تعالٰی؟ قال: الصلٰوۃ لوقتھا (الحدیث)۔ (مشكوٰۃ ص:۵۸)۔ وفی الحدیث دلیل علٰی ما قالہ العلماء من ان الصلٰوۃ أفضل العبادات بعد الشھادتین۔ (مرقاۃ ج:۲ ص:۲۷۰)۔