بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

نماز چھوڑنا کافر کا فعل ہے

سوال:۔

احادیث میں آتا ہے کہ جس نے ایک نماز جان بوجھ کر چھوڑ دی اس نے کفر کیا، آپ مہربانی فرماکر یہ بتائیں کہ کفر سے مراد اللہ نہ کرے، آدمی کافر ہوگیا یا یہ کہ کفر کیا ہے یہ چھوڑی جانے والی نماز کے بعد جو نماز پڑھی، تو درمیان میں جو وقت گزرا وہ کفر کی حالت میں رہا، حالانکہ جس نے ایک دفعہ کلمہ طیبہ پڑھا اسے کافر نہیں کہنا چاہئے۔

جواب:۔

جو شخص دینِ اسلام کی تمام باتوں کو سچا مانتا ہو، اور تمام ضروریاتِ دین میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہو، اہلِ سنت کے نزدیک وہ کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں قرار دیا جائے گا۔ اس حدیث شریف میں جس کفر کا ذکر ہے وہ کفرِ اعتقادی نہیں، بلکہ کفرِ عملی ہے، حدیث شریف کا قریب ترین مفہوم یہ ہے کہ اس شخص نے کفر کا کام کیا، یعنی نماز چھوڑنا مؤمن کا کام نہیں، کافر کا فعل ہے، اس لئے جو مسلمان نماز چھوڑ دے اس نے کافروں کا کام کیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو بھنگی کہہ دیا جائے، یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ واقعتا بھنگی ہے، بلکہ یہ کہ وہ بھنگیوں کے سے کام کرتا ہے، اسی طرح جو شخص نماز نہ پڑھے، وہ اگرچہ کافر نہیں، لیکن اس کا یہ عمل کافروں جیسا ہے۔(۱)

  1. (۱) (فمن تركھا فقد كفر) أی أظھر الكفر وعمل عمل الكفر۔ (مرقاۃ ج:۲ ص:۲۷۶)۔ وأیضًا: ان الْإیمان إذا کان عبارۃ عن التصدیق والْإقرار ینبغی أن لَا یصیر المؤمن المقر المصدق کافرًا بشیئٍ من أفعال الكفر وألفاظہٖ۔ (شرح عقائد ص:۱۰۹، مبحث الكبیرۃ، طبع مکتبہ خیر كثیر، آرام باغ کراچی)۔