بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

نماز چھوڑنے کا وبال

سوال:۔

ہمارے خاندان میں کچھ قریبی رشتہ دار ایسے ہیں جو کہ اخلاقی اِعتبار سے اچھے درجے پر ہیں۔ حقوق العباد بھی ادا کرتے ہیں، خوش اخلاق ہیں، مگر نماز جیسا اہم فریضہ ادا نہیں کرتے، او ران کے ذہنوں میں اس قسم کا کوئی تصوّر ہی نہیں ہے کہ نماز بھی پڑھنی چاہئے (سوائے جمعہ اور عیدین کے)۔ دُوسرے مطلب میں نماز ان کے لئے کوئی اہم درجہ نہیں رکھتی، جبکہ مسلمان ہیں اور خدا اور رسول پر اِیمان رکھتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ:

۱:۔ ایسے لوگوں کی دُنیاوی زندگی پر نماز نہ پڑھنے کا کیا اثر پڑتا ہے؟

۲:۔ آخرت میں کس درجہ گناہ کے مرتکب قرار دئیے جائیں گے؟

۳:۔ اور کیا ان کے اعلیٰ اخلاق، ملنساری، خوش اخلاقی اور ظاہری خوش حالی اس بات کی ضامن ہے کہ خدا ایسے لوگوں سے خوش ہے؟

جواب:۔

نماز اِسلام کا سب سے اہم ترین رُکن ہے، حدیث میں ہے کہ ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور کہا کہ: ’’ہم اسلام لاتے ہیں، مگر نماز نہیں پڑھیں گے، روزہ نہیں رکھیں گے اور جہاد نہیں کریں گے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’یہ تو منظور ہے کہ روزے نہ رکھو، اور جہاد نہ کرو، مگر یہ منظور نہیں کہ تم نماز نہ پڑھو، کیونکہ اس دِین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہیں(۱)۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! آپ نے ان کو روزے نہ رکھنے اور جہاد نہ کرنے کی اجازت کیسے دے دی؟ فرمایا: ’’مسلمان ہوجاتے تو روزے بھی رکھتے اور جہاد بھی کرتے۔‘‘

نماز دِین کا ستون ہے، جس نے نماز قائم کی، اس نے دِین کو قائم کیا، اور جس نے اس کو گرادیا، اس نے دِین کو ڈھادیا۔(۲) نمازِ پنج گانہ مسلمانوں پر تمام فرائض میں سب سے بڑا فرض ہے۔(۳)

  1. (۱) عن عثمان بن أبی العاص: أن وفد ثقیف لما قدموا علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انزلھم المسجد لیكون أرق لقلوبھم فاشترطوا علیہ أن لَا یحشروا ولَا یعشروا ولَا یجبوا، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن لَا تحشروا ولَا تعشروا ولَا خیر فی دین لیس فیہ ركوع۔ (سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۷۲، باب ما جاء فی خبر الطائف)۔
  2. (۲) الصلاۃ من جملۃ ما یسقم بہ الْإیمان لأنھا عماد الدین فمن أقامھا فقد أقام الدین ومن تركھا فقد ھدم الدین۔ (عمدۃ القاری ج:۵ ص:۶، باب قول اللہ تعالٰی منیبین إلیہ ۔۔۔إلخ، كتاب مواقیت الصلاۃ)۔
  3. (۳) ثم الصلاۃ أھم من سائر العبادات لشمول وجوبھا وكثرۃ تکررھا وكونھا حسنۃ یعنیھا ثم ھی مستلزمۃ للإیمان إذ لَا صحۃ لھا بدونہ۔ (حلبی كبیر ص:۴)۔