بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

کیا تارکِ صلوٰۃ کو تجدیدِ اِیمان کی ضرورت ہے؟

سوال:۔

ایک شخص کافی عرصے سے نماز ترک کئے ہوئے ہے، حتیٰ کہ وہ جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑھتا۔ کیا اس شخص کو تجدیدِ اِیمان کی ضرورت ہے؟ فرض کرلیجئے کہ وہ گزشتہ چھ مہینوں سے نماز مسلسل ترک کر رہا ہے۔

جواب:۔

نمازِ پنج گانہ فرض ہے اور اس کا ترک گناہِ کبیرہ، اور تمام کبیرہ گناہوں ۔۔۔چوری، زنا وغیرہ۔۔۔ سے بدتر گناہ ہے، پس جو شخص تارکِ صلوٰۃ رہا، اگر وہ نماز کو فرض، اور ترکِ صلوٰۃ کے فعل کو گناہ، اور اپنے آپ کو گناہگار اور مجرم سمجھتا رہا، تو یہ شخص مسلمان ہے، اس کو تجدیدِ اِیمان کی ضرورت نہیں، مگر اپنے فعل سے توبہ لازم ہے۔ اور اگر یہ شخص اپنے فعل کو گناہ ہی نہیں سمجھتا رہا، نہ اس نے اپنے آپ کو مجرم اور قصوروَار سمجھا، تو یہ شخص اِیمان سے خارج ہوگیا،(۱) اور اس پر توبہ کے ساتھ تجدیدِ اِیمان لازم ہے، اور اسی کے ساتھ تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) وإن أنكر بعض ما علم من الدِّین ضرورۃ كفر بھا۔ (شامی ج:۱ ص:۵۶۱)۔ الصلٰوۃ فریضۃ محكمۃ لَا یسع تركھا ویكفر جاحدھا كذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیریۃ ج:۱ ص:۵۰، كتاب الصلاۃ، طبع رشدیہ)۔
  2. (۲) ما یكون كفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (شامی ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد)۔