بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

مصروفیت کی وجہ سے نماز کا وقت گزر جائے یا جماعت کا تو کیا حکم ہے؟

سوال:۔

نماز غفلت کی بنا پر چھوڑنا مسلمان کی شان کے خلاف اور باعثِ خسارہ ہے، اُخروی لحاظ سے، دُنیاوی لحاظ سے بھی، پوچھنا یہ مقصود ہے کہ مصروفیت کی وجہ سے نماز کا وقت گزرجائے یا کبھی جماعت کی نماز کا، دونوں ایک ہی چیز ہے یا فرق ہے؟

جواب:۔

دونوں میں فرق ہے جماعت کی نماز سنت مؤکدہ یا واجب ہے، اس کو بغیر عذر کے چھوڑنا گناہ ہے،(۱) جبکہ نماز کو جان بوجھ کر قضا کردینا اس سے بدتر گناہ ہے جس کو حدیث میں ’’کفر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔(۲)

  1. (۱) إن صلاۃ الجماعۃ واجبۃ علی الراجح فی المذھب أو سُنّۃ مؤكدۃ فی حكم الواجب كما فی البحر وصرحوا بفسق تاركھا وتعزیرہ، وأنہ یأثم۔ (شامی ج:۱ ص:۴۵۷، مطلب كل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب إعادتھا)۔
  2. (۲) وقال محمد بن نصر المروزی قال إسحاق صح عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ’’أن تارك الصلاۃ کافر‘‘ وکان رأی أھل العلم من لدنہ صلی اللہ علیہ وسلم أن تاركھا عمدًا من غیر عذر حتّٰی یذھب وقتھا کافر۔ (الزواجر عن اقتراف الكبائر ج:۱ ص:۱۳۸، الكبیرۃ السابعۃ والسبعون، تعمد تأخیر الصلاۃ عن وقتھا ۔۔۔إلخ)۔