نمازکیفرضیتواہمیت
تارکِ نماز کا حکم
سوال:۔
مجھے اس چیز کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بے نمازی کے لئے اسلام کے کیا اَحکامات ہیں؟ کچھ کہتے ہیں کہ وہ کافر ہوجاتا ہے، اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ کافر نہیں ہوتا۔ میں نے سنا ہے کہ اِمام مالکؒ اور اِمام شافعیؒ کے نزدیک یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے، کیا یہ سچ ہے؟ اور اسی طرح سنا ہے کہ عبدالقادر جیلانی ؒ اس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اسے (بے نمازی کو) مار ڈالا جائے، اس کی لاش کو گھسیٹ کر شہر سے باہر پھینک دیا جائے، کیا یہ بھی حقیقت ہے؟ ویسے زیادہ لوگوں سے میں نے یہ سنا ہے کہ وہ اس وقت تک کافر نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنی زبان سے یہ نہ کہہ دے کہ میں نماز نہیں پڑھتا، یعنی اگر وہ زبان سے کہہ دے کہ میں نماز نہیں پڑھتا تو کافر ہوجاتا ہے، ورنہ چاہے نماز پڑھے یا نہ پڑھے، وہ کافر نہیں ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ کافر یا مرتد نہیں ہوتا تو اسے قتل کا حکم کیوں دیا جاتا ہے؟ جبکہ قرآن مجید میں بھی کسی مسلمان کے قتل کو جائز قرار نہیں دیا گیا۔ برائے مہربانی مجھے اِمام مالکؒ، اِمام شافعیؒ، اِمام احمد بن حنبلؒ، اِمام ابوحنیفہؒ اور شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکے بے نمازی کے بارے میں جو صحیح صحیح اَحکامات ہیں، بتادیں، مع حوالہ کے، بہت مہربانی ہوگی۔
جواب:۔
تارکِ صلوٰۃ اگر نماز کی فرضیت ہی کا منکر ہو تو باجماعِ اہلِ اسلام کافر و مرتد ہے، (اِلَّا یہ کہ نیا مسلمان ہوا ہو اور اسے فرضیت کا علم نہ ہوسکا ہو، یا کسی ایسے کوردہ میں رہتا ہو کہ وہ فرضیت سے جاہل رہا ہو، اس صورت میں اس کو فرضیت سے آگاہ کیا جائے گا، اگر مان لے تو ٹھیک، ورنہ مرتد اور واجب القتل ہوگا)۔ اور جو شخص فرضیت کا تو قائل ہو، مگر سستی کی وجہ سے پڑھتا نہ ہو، تو اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام مالکؒ، اِمام شافعیؒ اور ایک روایت میں اِمام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک وہ مسلمان تو ہے، مگر بدترین فاسق ہے۔ اور اِمام احمدؒ سے ایک روایت یہ ہے کہ وہ مرتد ہے، اس کو تین دن کی مہلت دی جائے اور نماز پڑھنے کے لئے کہا جائے، اگر نماز پڑھنے لگے تو ٹھیک، ورنہ ارتداد کی وجہ سے اس کو قتل کیا جائے اور مسلمانوں کے قبرستان میں اسے دفن نہ کیا جائے، غرض اس کے اَحکام مرتدین کے ہیں۔
اِمام مالکؒ، اِمام شافعیؒ کے نزدیک اور اِمام احمدؒ کی ایک روایت کے مطابق اگرچہ بے نمازی مسلمان ہے، مگر اس جرم یعنی ترکِ صلوٰۃ کی سزا قتل ہے، اِلَّا یہ کہ وہ شخص توبہ کرلے، لہٰذا اس کو تین دن کی مہلت دی جائے اور ترکِ نماز سے توبہ کرنے کا حکم دیا جائے، اگر توبہ کرلے تو اس سے قتل کی سزا ساقط ہوجائے گی، ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا، اور قتل کے بعد اس کا جنازہ پڑھا جائے گا اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، الغرض اگر بے نمازی توبہ نہ کرے تو ان حضرات کے نزدیک اس کی سزا قتل ہے۔ اور حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بے نمازی کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو ہمیشہ قید رکھا جائے گا اور روزانہ اس کے جوتے لگائے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ ترکِ نماز سے توبہ کرلے۔ ان مذاہب کی تفصیل فقہِ شافعی کی کتاب شرح مہذب (ج:۳ ص:۱۶)،(۱) اور فقہِ حنبلی کی کتاب المغنی (ج:۲ ص:۲۹۸ مع الشرح الکبیر)،(۲) اور فقہِ حنفی کی کتاب فتاویٰ شامی (ج:۱ ص:۳۵۲)(۳) میں ہے۔
جو حضرات بے نمازی کے قتل کا فتویٰ دیتے ہیں، ان کا اِستدلال یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا جرم ہے، اس کے علاوہ ان کے اور بھی دلائل ہیں۔ حضرت پیرانِ پیر شاہ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی کتاب دیکھنے کا موقع نہیں ملا، مگر وہ اِمام احمد بن حنبلؒ کے مقلد ہیں، اور میں اُوپر لکھ چکا ہوں کہ اِمام احمدؒ کی ایک روایت میں یہ مرتد ہے، اور اس کے ساتھ مرتدین جیسا سلوک کیا جائے گا۔ اس لئے اگر حضرت پیرانِ پیرؒ نے یہ لکھا ہو کہ بے نمازی کا کفن دفن نہ کیا جائے، بلکہ مردار کی طرح گھسیٹ کر اس کو کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے تو ان کے مذہب کی روایت کے عین مطابق ہے۔
- (۱) (فرع) فی مذاھب العلماء فیمن ترك الصلاۃ تکاسلًا مع إعتقاد وجوبھا، فمذھبنا المشھور ما سبق انہ یقتل حدًّا ولَا یكفر وبہ قال مالك والأكثرون من السلف والخلف، وقالت طائفۃ یكفر ویجری علیہ أحکام المرتدین فی كل شیء وھو مروی عن علی بن أبی طالب وبہ قال ابن المبارك وإسحاق بن راھویہ وھو أصح الروایتین عن أحمد، وبہ قال منصور الفقیہ من أصحابنا كما سبق، وقال الثوری وأبوحنیفۃ وأصحابہ وجماعۃ من أھل الكوفۃ والمزنی لَا یكفر ولَا یُقتل بل یعزر ویحبس حتّٰی یصلی واحتج لمن قال بكفرہٖ بحدیث جابر رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن بین الرجل وبین الشرك والكفر ترك الصلاۃ۔ (شرح مہذب ج:۳ ص:۱۶، فرع فی مذاھب العلماء، طبع دار الفكر)۔
- (۲) ومن ترك الصلاۃ وھو بالغ عاقل جاحدًا لھا أو غیر جاحد دعی إلیھا فی وقت كل صلاۃ ثلاثۃ أیام فإن صلّٰی وإلّا قُتِل وجملۃ ذالك أن تارك الصلاۃ لَا یخلوا إما أن یكون جاحدًا لوجوبھا أو غیر جاحد فإن کان جاحدًا لوجوبھا نظر فیہ فإن کان جاھلًا بہ وھو ممن یجھل ذالك کالحدیث الْإسلام والناشیء ببادیۃ عرّف وجوبھا وعلم ذالك ولم یحكم بكفرہ لأنہ معذور فإن لم یكن ممن یجھل ذالك کالناشیء من المسلمین فی الأمصار والقریٰ لم یعذر ولم یقبل منہ إدعاء الجھل وحكم بكفرہ لأن أدلۃ الوجوب ظاھرۃ فی الكتاب والسُّنَّۃ والمسلمون یفعلونھا علی الدوام فلا یخفی وجوبھا علٰی من ھٰذا حالہ ولَا یجحدھا إلّاتکذیبًا ﷲ تعالٰی ولرسولہ وإجماع الاُمّۃ وھٰذا یصیر مرتدًا عن الْإسلام، حكمہ حكم سائر المرتدین فی الْإستتابۃ والقتل ولَا أعلم فی ھٰذا خلافًا۔ (المغنی ج:۲ ص:۲۹۸، باب الحكم فیمن ترك الصلاۃ)۔
- (۳) وقال أصحابنا فی جماعۃ منھم الزھری: لَا یُقتل بل یعذر ویحبس حتّٰی یموت أو یتوب، قولہ عند الشافعی یُقتل وكذا عند مالك وأحمد، وفی روایۃ عن أحمد وھی المختارۃ عند جمھور أصحابہ أنہ یُقتل كفرا وبسط فی الحلیۃ۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۳۵۲، ۳۵۳، كتاب الصلاۃ)۔

