نمازکیفرضیتواہمیت
بے نمازی کو کامل مسلمان نہیں کہہ سکتے
سوال:۔
ایک آدمی پورا سال نماز نہ پڑھے تو اسے کامل مسلمان کہا جاسکتا ہے، جو جمعہ اور عید کی نماز بھی نہیں پڑھتا؟
جواب:۔
اگر وہ شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہے اور نماز کی فرضیت کا بھی قائل ہے، مگر سستی یا غفلت کی بنا پر نماز نہیں پڑھتا تو ایسا شخص مسلمان تو ہے لیکن کامل مسلمان اسے نہیں کہا جاسکتا، کہ وہ نماز جیسے اہم اور بنیادی رُکن کا تارک ہونے کی وجہ سے سخت گناہگار اور بدترین فاسق ہے،(۱) قرآن و احادیث میں نماز کے چھوڑنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔(۲)
- (۱) (تاركھا عمدًا مجانۃ) أی تکاسلًا فاسق۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۳۵۲، كتاب الطھارۃ)۔
- (۲) ﵟ مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ٤٢ قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ٤٣ ﵞ المدثر ٤٢ و ٤٣۔ وعن بریدۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العھد الذی بیننا وبینھم الصلٰوۃ، فمن تركھا فقد كفر۔ (مشكوٰۃ ج:۱ ص:۵۸، كتاب الصلٰوۃ، الفصل الثانی)۔

