نمازکیفرضیتواہمیت
سن بلوغت یاد نہ ہونے پر قضا نماز، روزہ کب سے شروع کرے؟
سوال:۔
اکثر کتابوں میں پڑھا ہے کہ نماز بالغ ہونے پر فرض ہوجاتی ہے، اور لڑکا، لڑکی کے بالغ ہونے کی عمر مختلف کتابوں میں مختلف لکھی ہے، یعنی کہیں بارہ سال ہے اور کہیں تیرہ، چودہ سال، اور کہیں پندرہ سال ہے۔ میں نے چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں نماز پڑھنی شروع کی، آپ یہ فرمائیں کہ مجھے کتنی عمر کی نمازیں قضا پڑھنی چاہئیں؟ مجھے نہیں یاد کہ میں بالغ کس عمر میں ہوا تھا؟
جواب:۔
لڑکے اور لڑکی کا بالغ ہونا علامات سے بھی ہوسکتا ہے، (مثلاً: لڑکے کو احتلام ہوجائے، یا لڑکی کو حیض آجائے، وغیرہ)، اگر پندرہ سال سے پہلے بالغ ہونے کی علامتیں ظاہر ہوجائیں تو ان پر بالغوں کے اَحکام جاری ہوں گے، اور اگر کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو پندرہ برس کی عمر پورا ہونے پر ان کو بالغ شمار کیا جائے گا اور ان پر نماز، روزہ وغیرہ فرائض لازم ہوجائیں گے۔(۱)
اگر کسی نے بالغ ہونے کے بعد بھی نماز، روزہ میں کوتاہی کی، اب وہ توبہ کرکے نماز، روزہ قضا کرنا چاہتا ہے، اور اسے یہ یاد نہیں کہ وہ کب بالغ ہوا تھا؟ تو لڑکے کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ تیرہویں سال کے شروع ہونے سے نماز، روزہ قضا کرے، کیونکہ بارہ سال کا لڑکا بالغ ہوسکتا ہے، اور لڑکی کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نو برس پورے ہونے اور دسویں سال کے شروع ہونے سے نماز، روزہ قضا کرے، کیونکہ نو برس کی لڑکی بالغ ہوسکتی ہے۔(۲)
- (۱) (بلوغ الغلام بالْإحتلام والْإحبال والْإنزال) ۔۔۔ فإن لم یوجد فیھما شیء (فحتی یتم لكل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتٰی) لقصر أعمار أھل زماننا۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۱۵۳، فصل بلوغ الْإحتلام بالْإنزال)۔
- (۲) (وأدنٰی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ ولھا تسع سنین) ھو المختار۔ (در مختار مع الشامی ج:۶ ص:۱۵۴)۔

