نجاستاورپاکیکےمسائل
ناپاک جگہ خشک ہونے کے بعد پاک ہوجاتی ہے
سوال:۔
بعض گھرانوں میں بلکہ اکثر گھرانوں میں چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں، جو جگہ جگہ پیشاب کردیتے ہیں، کیا ایسی صورت میں اس جگہ بیٹھنے یا سونے والا نماز پڑھنے کے قابل رہتا ہے؟ یاد رہے کہ وہ جگہ سائے میں خشک ہوئی ہو، جواب دے کر تسلی فرمائیں۔
سوال:۔
ناپاک جگہ زمین وغیرہ کو کس طرح پاک کیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ پختہ ہونے کی صورت میں دھوکر پاک ہوجائے گی، لیکن کچی جگہ مثلاً کچا صحن یا کچی چھت وغیرہ، تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔
ناپاک زمین خشک ہونے کے بعد نماز کے لئے پاک ہوجاتی ہے، اور ایسی جگہ کے خشک ہونے کے بعد وہاں بغیر کپڑا بچھائے بھی نماز پڑھنا جائز ہے، تاہم اگر طبعاً کراہت آئے تو وہاں کپڑا بچھاکر نماز پڑھ لی جائے۔(۱)
جواب:۔
زمین خشک ہونے سے پاک ہوجاتی ہے، اس پر نماز پڑھنا دُرست ہے، مگر اس سے تیمم کرنا دُرست نہیں۔(۲)
- (۱) وتطھر أرض ۔۔۔ بیبسھا أی جفافھا ولو بریح وذھاب أثرھا كلون وریح لأجل صلاۃ علیھا ۔۔۔الخ۔ (درمختار مع ردالمحتار ج:۱ ص:۳۱۱، باب الْانجاس، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) وتطھر أرض ۔۔۔ بیبسھا أی جفافھا ولو بریح وذھاب أثرھا كلون وریح لأجل صلاۃ علیھا لَا لیتیمم بھا لأن المشروط لھا الطھارۃ ولہ الطھوریۃ۔ (درمختار ج:۱ ص:۳۱۱، باب الْانجاس، طبع ایچ ایم سعید)۔

