بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نجاست‌اور‌پاکی‌کے‌مسائل

ڈرائی کلینرز کے دُھلے کپڑوں کا حکم

سوال:۔

یہاں گرم کپڑے دھونے کی جو دُکانیں اور فیکٹریاں ہیں، جنہیں ڈرائی کلینرز کہتے ہیں، وہ خاص قسم کی مشین ہوتی ہے، ان میں پیٹرول کی قسم کا خاص سیال مادّہ ڈالا جاتا ہے جو کہ ان کپڑوں کو دھوتا ہے، وہ مادّہ ایک دفعہ نیا ڈال کر بار بار اسی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے، ایک دو ہفتے کے بعد نیا ڈالا جاتا ہے، اسی دوران دسیوں مرتبہ اس مشین میں کپڑے ڈالے جاتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس طرح دُھلے ہوئے کپڑے پاک ہوں گے یا ناپاک؟ چونکہ اس میں ہر قسم کے کپڑے پاک، ناپاک ڈالے جاتے ہیں اور ان مشینوں کو پانی سے کبھی دھویا نہیں جاتا، اس لئے شبہ ہوتا ہے کہ اس میں دھوئے ہوئے سارے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہوں گے، البتہ یقین کے درجے میں معلوم نہیں کہ اس میں ناپاک کپڑے بھی ڈالے گئے؟ جواب مفصل تحریر فرمائیں کہ یہ مسئلہ یہاں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

جواب:۔

یہ تو ظاہر ہے کہ ان مشینوں میں جو کپڑے ڈالے جاتے ہیں ان میں بہت سے ناپاک بھی ہوں گے، پاک و ناپاک مل کر سبھی ناپاک ہوجائیں گے، اور جیسا کہ معلوم ہے کہ ناپاک کپڑے کو پاک کرنے کے لئے یہ شرط ہے کہ تین مرتبہ پاک پانی میں ڈالا جائے اور ہر مرتبہ خوب نچوڑا جائے،(۱) ڈرائی کلینر دُکانوں میں اس تدبیر پر عمل نہیں ہوتا، اس لئے وہاں کے دُھلے ہوئے کپڑے پاک نہیں، اگر کبھی وہاں دُھلانے کی نوبت آئے تو ان کو اپنے طور پر پاک کرلیا جائے۔

یہ تو اس صورت میں ہے کہ اس امر کا ظن غالب ہو کہ مشین میں پاک اور ناپاک سبھی قسم کے کپڑے ڈالے گئے، اور اگر ناپاک کپڑوں کے ڈالے جانے کا ظن غالب نہ ہو تو محض شک یا تردّد ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ جس حالت میں آپ نے کپڑا دیا تھا، اسی حالت میں رہے گا۔ یعنی اگر پاک کپڑا دیا تھا تو پاک رہے گا، اور ناپاک دیا تھا تو ناپاک رہے گا۔(۲)

  1. (۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ دیکھئے۔
  2. (۲) القاعدۃ الثالثۃ: الیقین لَا یزول بالشك ۔۔۔ یندرج فی ھٰذہ القاعدۃ قواعد، منھا: قولھم: الأصل بقاء ما کان علٰی ما کان، وتتفرع علیھا مسائل، منھا: من تیقن الطھارۃ وشك فی الحدث فھو متطھر، ومن تیقن الحدث وشك فی الطھارۃ فھو محدث ۔۔۔الخ۔ (الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۸۴ تا ۸۷، طبع ادارۃ القرآن کراچی)۔