نجاستاورپاکیکےمسائل
نہاتے وقت غسل خانے کی دیواریں، دروازے وغیرہ پاک کرنا
سوال:۔
میں گزشتہ دس پندرہ سال سے اس تکلیف میں مبتلا ہوں، نفسیاتی علاج جاری ہے، لیکن میں اس سلسلے میں اللہ کا حکم معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ کیا کہیں میں گناہ کی مرتکب تو نہیں ہورہی۔ میں نماز روزے کی بہت زیادہ پابند ہوں، جب میں نماز نہیں پڑھتی تو بہت زیادہ گندگی محسوس کرتی ہوں، اس لئے جب نہاتی ہوں تو غسل خانے اور لیٹرین کے دروازے، دیواریں، بیسن، لوٹے ایک ایک چیز دھوتی ہوں۔ اس دوران میرے بچوں کے اور میرے اِستعمال کی ایک ایک چیز دھوتی ہوں۔ مولانا صاحب! گھر میں چھ سات اور بھی خواتین ہیں، کوئی نہ کوئی اس حالت میں ضرور ہوتی ہے، مجھے نہیں پتا کہ ہر سرخ دھبہ کیوں مجھے ماہواری کی گندگی لگتا ہے، پھر میں دھودھوکر پاگل ہوجاتی ہوں سب چیزیں۔ مجھے اتنا بتادیجئے کہ اگر مجھے کوئی سرخ دھبہ کسی جگہ نظر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایسا اِرشاد مجھے بتادیجئے۔
ایک دفعہ ایک مفتی صاحب سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ جب تک آپ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں کہ یہ وہی گندگی ہے، تب وہ گندگی ہے، محض شک سے یہ وہ گندگی نہیں ہے۔ مولانا صاحب! گھر میں دُوسری خواتین بھی ہیں، لیکن ان کا رویہ نارمل ہے، جبکہ میری زندگی مجھ پر حرام ہوگئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو چیزوں میں سے آسان چیز اَپناتے تھے، پلیز میری مدد کریں، مجھے تفصیل سے سمجھادیں، میں بہت شکرگزار ہوں گی۔
جواب:۔
آپ کو بلاوجہ وہم کی بیماری ہے، جس کی اِصلاح ضروری ہے۔ شریعت کا اُصول یہ ہے کہ ہر چیز کو پاک سمجھا جائے، جب تک کہ اس کے ناپاک ہونے کی کوئی وجہ نہ ہو۔ اور آپ کے وہم نے یہ فتویٰ ایجاد کیا ہے کہ ہر چیز کو ناپاک سمجھا جائے جب تک کہ چار گھنٹے لگاکر اس کو پاک نہ کرلیا جائے۔ اور اگر خدانخواستہ یہ وہم ہوجائے کہ نل سے جو پانی آرہا ہے یہ بھی ناپاک نہ ہو، تو پھر کسی چیز کے پاک کرنے کا بھی اِمکان نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تشدّد دِین کی تعلیم نہیں، اس لئے یہ وہم ترک کردیجئے اور غسل خانے کی ساری چیزوں کو دھونے کی بے ہودہ کوشش ترک کردیجئے۔(۱)
- (۱) القاعدۃ الثالثۃ: الیقین لَا یزول بالشك ۔۔۔ یندرج فی ھٰذہ القاعدۃ قواعد، منھا: قولھم: الأصل بقاء ما کان علٰی ما کان، وتتفرع علیھا مسائل: منھا: من تیقن الطھارۃ وشك فی الحدث فھو متطھر ۔۔۔الخ۔ (الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۸۴ تا ۸۷، الفن الأوّل، طبع ادارۃ القرآن کراچی)۔

