بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نجاست‌اور‌پاکی‌کے‌مسائل

سو کر اُٹھنے کے بعد ہاتھ دھونا

سوال:۔

میں نے ’’بہشتی زیور‘‘ میں یہ پڑھا تھا کہ آدمی جب صبح سوکر اُٹھتا ہے تو اس کے ہاتھ ناپاک ہوتے ہیں، اور اس کو ہاتھ پاک کئے بغیر کوئی نم چیز نہیں پکڑنی چاہئے، پوچھنا یہ تھا کہ اگر آدمی کے ہاتھ پسینے سے بھیگے ہوئے یا نم ہوں یا اس نے سوتے میں یا غنودگی میں جسم کے ایسے حصے کو ہاتھ لگایا جو پسینے سے بھیگا ہوا یا نم ہو تو کیا ایسی صورت میں بھی وہ اور اس کا جسم ناپاک ہوجائیں گے؟ محترم! مجھے پسینہ کچھ زیادہ ہی آتا ہے، اور خاص طور پر سونے میں کسی ایک کروٹ پڑے رہنے میں وہ حصہ بھیگ جاتا ہے، اب میں اپنے ہاتھ سے جو پسینے سے نم ہوتے ہیں اپنا منہ بھی کھجاتا ہوں، اور چادر بھی ٹھیک کرتا ہوں، غرض جسم کو، کپڑوں کو، بستر کو ہاتھ لگاتا ہوں؟

جواب:۔

آپ نے ’’بہشتی زیور‘‘ کے جس مسئلے کا حوالہ دیا ہے، وہ یہ ہے:

’’مسئلہ:۔ جب سوکر اُٹھے تو جب تک گٹے تک ہاتھ نہ دھولے تب تک ہاتھ پانی میں نہ ڈالے، چاہے ہاتھ پاک ہو اور چاہے ناپاک ہو۔‘‘(۱)

آپ نے ’’بہشتی زیور‘‘ کا حوالہ دینے میں دو غلطیاں کی ہیں، ایک یہ کہ: ’’جب آدمی سوکر اُٹھتا ہے تو اس کے ہاتھ ناپاک ہوتے ہیں‘‘، حالانکہ ’’بہشتی زیور‘‘ کے مذکورہ بالا مسئلے میں سوکر اُٹھنے والے کے ہاتھوں کو ناپاک نہیں کہا گیا۔ دُوسری غلطی یہ کہ آپ نے لکھا کہ: ’’ہاتھ پاک کئے بغیر کوئی چیز نہیں پکڑنی چاہئے‘‘ حالانکہ ’’بہشتی زیور‘‘ کے مذکورہ بالا مسئلے میں یہ لکھا ہے کہ ہاتھ خواہ پاک ہوں یا ناپاک، ان کو پانی کے برتن میں نہیں ڈالنا چاہئے، نہ یہ کہ کسی چیز کو پکڑنا نہیں چاہئے۔

سونے سے پہلے اگر بدن پاک تھا اور نیند میں جنابت کی وجہ سے ناپاک نہیں ہوا، تو پسینہ آنے سے نہ بدن ناپاک ہوتا ہے اور نہ سونے والے کے ہاتھ ناپاک ہوتے ہیں، لیکن نیند سے اُٹھ کر جب تک ہاتھ نہ دھوئے جائیں ان کو پانی کے برتن میں نہیں ڈالنا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) بہشتی زیور ص:۱۱۱، حصہ دوم، باب دوم استنجے کا بیان ص:۷، طبع مکتبۃ العلم۔
  2. (۲) وسنن الطھارۃ غسل الیدین قبل إدخالھما الْإناء، إذا استیقظ المتوضیٔ من نومہ لقولہ علیہ السلام: إذا استیقظ أحدكم من منامہ فلا یغمسن یدہ فی الْإناء حتّٰی یغسلھا ثلاثًا فإنہ لَا یدری أین باتت یدہ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۳، كتاب الطھارۃ)۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا استیقظ أحدكم من منامہ فلا یغمس یدہ فی الْإناء حتّٰی یغسلھا ثلاثًا فإنہ لَا یدری أینت باتت یدہ۔ (مسلم ج:۱ ص:۱۳۶، سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۱۵)۔