بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نجاست‌اور‌پاکی‌کے‌مسائل

نجاستِ غلیظہ اور نجاستِ خفیفہ کی تعریف

سوال:۔

میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ اگر تین حصے بدن کے کپڑے ناپاک ہوں اور ایک حصہ پاک ہو، تب بھی نماز قبول ہوجاتی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب:۔

جی نہیں! مسئلہ سمجھنے سمجھانے میں غلطی ہوئی ہے۔ دراصل یہاں دو مسئلے الگ الگ ہیں، ایک یہ کہ کپڑے کو نجاست لگ جائے تو کس حد تک معاف ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نجاست کی دو قسمیں ہیں: غلیظہ اور خفیفہ۔

نجاستِ غلیظہ:۔ مثلاً آدمی کا پاخانہ، پیشاب، شراب، خون، جانوروں کا گوبر اور حرام جانوروں کا پیشاب وغیرہ یہ سب سیال ہو تو ایک روپے کے پھیلاؤ کے بقدر معاف ہے، اور اگر گاڑھی ہو تو پانچ ماشے وزن تک معاف ہے، اس سے زیادہ ہو تو نماز نہیں ہوگی۔(۱)

نجاستِ خفیفہ:۔ مثلاً (حلال جانوروں کا پیشاب) کپڑے کے چوتھائی حصے تک معاف ہے۔ چوتھائی کپڑے سے مراد کپڑے کا وہ حصہ ہے جس پر نجاست لگی ہو، مثلاً: آستین الگ شمار ہوگی، دامن الگ شمار ہوگا، اور معاف ہونے کا مطلب ہے کہ اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں،(۲) لیکن اس نجاست کا دُور کرنا اور کپڑے کا پاک کرنا بہرحال ضروری ہے۔(۳)

اور دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس پاک کپڑا نہ ہو اور ناپاک کپڑے کو پاک کرنے کی بھی کوئی صورت نہ ہو تو آیا ناپاک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے یا کپڑا اُتار کر برہنہ نماز پڑھے؟ اس کی تین صورتیں ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ کپڑا ایک چوتھائی پاک ہے اور تین چوتھائی ناپاک ہے، ایسی صورت میں اسی کپڑے میں نماز پڑھنا ضروری ہے، برہنہ ہوکر پڑھنے کی اجازت نہیں۔ دُوسری صورت یہ ہے کہ کپڑا چوتھائی سے کم پاک ہو، اس صورت میں اختیار ہے کہ خواہ اس ناپاک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھے، یا کپڑا اُتار کر بیٹھ کر رُکوع سجدہ کے اشارے سے نماز پڑھے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کپڑا کل کا کل ناپاک ہے، تو اس صورت میں بھی اِختیار ہے خواہ اس ناپاک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھے، یا کپڑا اُتار کر نماز پڑھے، لیکن برہنہ آدمی کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے، رُکوع سجدہ کی جگہ اشارہ کرے، تاکہ جہاں تک ممکن ہو ستر چھپاسکے۔ اسی لئے ناپاک کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنا، برہنہ ہوکر نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔(۴) الغرض آپ نے جو مسئلہ بزرگوں سے سنا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے پاس پاک کپڑا نہ ہو، بلکہ صرف ایسا کپڑا ہو جس کے تین حصے ناپاک ہوں اور ایک حصہ پاک ہو تو اسی کپڑے سے نماز پڑھنا ضروری ہے۔

  1. (۱) ومن أصابہ من النجاسۃ المغلظۃ کالدم والبول من غیر مأكول اللحم ولو من صغیر لم یطعم والغائط والخمر ۔۔۔ مقدار الدرھم فما دونہ جازت الصلاۃ معہ، لأن القلیل لَا یمكن التحرز عنہ فیجعل عفوًا ۔۔۔ ثم یرویٰ إعتبار الدرھم من حیث المساحۃ، وھو قدر عرض الكف فی الصحیح، ویرویٰ من حیث الوزن، وھو الدرھم الكبیر المثقال، وقیل فی التوفیق بینھما: ان الأولی فی الرقیق، والثانیۃ فی الكثیف، وفی الینابیع: وھذا القول أصح۔ (اللباب فی شرح الكتاب ص:۶۸، فصل فی النجاسۃ المغلظۃ، طبع قدیمی، در مختار ج:۱ ص:۳۱۸)۔
  2. (۲) وإن أصابتہ نجاسۃ مخففۃ كبول ما یؤكل لحمہ ۔۔۔ جازت الصلاۃ معہ ما لم یبلغ ربع جمیع الثوب ۔۔۔ وقیل ربع الموضع الذی أصابہ کالذیل والكم والدخریص ۔۔۔ وفی الحقائق: وعلیہ الفتویٰ۔ (اللباب فی شرح الكتاب ص:۶۸، ۶۹، أیضًا: درمختار ج:۱ ص:۳۲۱، ۳۲۲)۔
  3. (۳) المصلی إذا رأی علٰی ثوبہ نجاسۃ ھی أقل من قدر الدرھم إن کان فی الوقت سعۃ فالأفضل أن یغسل الثوب ویستقبل الصلاۃ وإن کان تفوتہ الصلاۃ بجماعۃ ویجد فی موضع آخر فكذالك وإن خاف أن لَا یجد الجماعۃ أو یفوتہ الوقت مضٰی علٰی صلاتہ، كذا فی الذخیرۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۰، كتاب الصلاۃ، الفصل الثانی)۔
  4. (۴) وصلاتہ فی ثوب نجس الكل أحب من صلاتہ عریانًا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ص:۱۳۰)۔ ولو کان مملوا من الدم أو الطاھر دون الربع یخیر بین أن یصلی فیہ وبین أن یصلی عریانًا۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ص:۷۸، البحر الرائق ج:۱ ص:۲۸۹)۔ وجد ثوبا ربعہ طاھر وصلی عاریا لم یجز وإن کان أقل من ربعہ طاھر أو كلہ نجسا خیر بین أن یصلی عاریًا قاعدًا بایماءٍ وبین أن یصلی فیہ قائمًا بركوع وسجود وھو أفضل كذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۰، كتاب الصلاۃ)۔