پاکیاورناپاکیمیںتلاوت،دُعاواذکار
بے وضو قرآن چھونا اور کھاتے ہوئے تلاوت کرنا
سوال:۔
کیا قرآن بے وضو پڑھنا جائز ہے؟ اگر تلاوت کے دوران وضو ہو، لیکن منہ سے کچھ کھا بھی رہے ہوں تو کیا تلاوت ہوجاتی ہے؟
جواب:۔
بے وضو تلاوت جائز ہے،(۱) قرآن مجید کو ہاتھ نہ لگایا جائے،(۲) کھاتے ہوئے تلاوت کرنا خلافِ ادب ہے۔(۳)
- (۱) ذھب الجمھور إلٰی أنہ یجوز لغیر متوضیٔ أن یقرأ القرآن ویذكر اللہ۔ (بدایۃ المجتھد ج:۱ ص:۳۱)۔
- (۲) ھل ھٰذہ الطھارۃ شرط فی مس المصحف أم لَا؟ فذھب مالك وأبو حنیفۃ والشافعی إلٰی أنھا شرط فی مس المصحف۔ (بدایۃ المجتھد ج:۱ ص:۳۰)۔ أیضًا: وفی كتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم لعمرو بن حزم: وأن لَا یمس القرآن إلّا طاھر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۳۴۵، طبع دار البشائر، بیروت)۔
- (۳) رجل أراد أن یقرأ القرآن فینبغی أن یكون علٰی أحسن أحوالہ یلبس صالح ثیابہ ویتعمم ویستقبل القبلۃ لأن تعظیم القرآن والفقہ واجب، كذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۱۶، طبع بلوچستان)۔

