ناخنپالشکیبلا
عورتوں کے لئے کس قسم کا میک اَپ جائز ہے؟
سوال:۔
ہماری خواتین اس بات پر بحث کرتی ہیں کہ انسان اپنی خوبصورتی کے لئے میک اَپ کرسکتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ مذہبِ اسلام کی رُو سے خواتین کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ بحیثیت مسلمان میک اَپ کریں جس میں سرخی، پاؤڈر، نیل پالش شامل ہے؟ کیا اس حالت میں محفلِ وعظ میں شرکت کرنا، قرآن خوانی اور نماز وغیرہ پڑھنا صحیح ہے؟
جواب:۔
عورت کے لئے ایسا میک اَپ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی فطری تخلیق میں تغیر کرنے کی کوشش ہو، جائز نہیں۔ مثلاً: اپنے فطری اور خلقی بالوں کے ساتھ دُوسرے انسانوں کے بالوں کو ملانا، ہاں انسانوں کے علاوہ دُوسرے مصنوعی بالوں کو ملانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ میک اَپ فطری تخلیق میں تغیر کرنے کے مترادف نہ ہو، وہ اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس میک اَپ کے ساتھ عورت غیرمحرَم مردوں کے سامنے نہ جائے، چنانچہ اس قسم کے میک اَپ میں سرخی، پاؤڈر شامل ہے۔(۱) ہاں! البتہ ناخن پالش سے احتراز کیا جائے، کیونکہ ناخن پالش دُور کئے بغیر نہ وضو ہوتا ہے اور نہ ہی غسل، ناخن پالش کو ہر وضو کے لئے ہٹانا کارِ مشکل ہے، اور جب ناخن پالش کو ہٹائے بغیر وضو یا غسل صحیح نہ ہوگا تو نماز بھی نہ ہوگی،(۲) اس لئے ناخن پالش کی لعنت سے اِحتراز لازم ہے۔
- (۱) عن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ والواشمۃ والمستوشمۃ۔ متفق علیہ۔ وعن عبداللہ بن مسعود قال: لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمّصات والمتفلّجات للحسن المغیّرات خلق اللہ ۔۔۔الخ۔ (مشكوٰۃ ص:۳۸۱، باب الترجل)۔ وقد فصلہ أصحابہ فقالوا: إن وصلت بشعر آدمی فھو حرام بلا خلاف لأنہ یحرم الْإنتفاع بشعر الآدمی وسائر أجزائہ لکرامتہ، وأما الشعر الطاھر من غیر الآدمی فإن لم یكن لھا زوج ولَا سیّد فھو حرام أیضًا، وإن کان فثلاثۃ أوجہ، أصحھا إن فعلتہ بإذن الزوج والسیّد جاز۔ (مرقاۃ شرح المشكوٰۃ ج:۴ ص:۴۶۰، باب الترجل، وأیضًا در مختار مع رد المحتار ج:۶ ص:۳۷۲، ۳۷۳، كتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی النظر والمس)۔
- (۲) والمعتبر فی جمیع ذالك نفوذ الماء ووصولہ إلی البدن۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۱۵۴)۔ لو کان علیہ جلد سمك أو خبز ممضوغ قد جف فتوضأ ولم یصل الماء إلٰی ما تحتہ لم یجز لأن التحرز عنہ ممكن، كذا فی المحیط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵)۔

