بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناخن‌پالش‌کی‌بلا

خوشی سے یا جبراً ناخن پالش لگانے کے مضمرات

سوال:۔

میں نے غسل کے فرائض میں پڑھا ہے کہ سارے جسم پر پانی اس طرح بہایا جائے کہ جسم کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہے۔ آج کل یہ بات عام فیشن میں آگئی ہے کہ ہمارے گھروں میں عورتیں ناخنوں پر پالش کرتی ہیں جو زیادہ گاڑھی ہوتی ہے اور ناخنوں پر اس کی ایک تہہ جم جاتی ہے، اور ایسے ہی بعض مرد حضرات رنگ کا کام کرتے ہیں جو جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو آسانی سے نہیں اُترتا۔ ایسی صورت میں ہر دوکس غسلِ جنابت سے پاکی حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اسلام نے عورت کو اپنے شوہر کے سامنے زینت، بناؤ سنگھار کی اجازت دی ہے، کیا ناخن پالش لگانا جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو ایسی حالت والی عورت کے لئے نماز، تلاوت اور کھانے پینے کے لئے کیا حکم ہے؟

سوال:۔

اگر شوہر کی خوشنودی کے لئے ناخن پالش لگائی جائے اور شوہر نہ لگانے پر سختی کرے تو ایسی عورت کے لئے کیا حکم ہے؟ اگر اسلامی تعلیمات کی رُو سے ناخن پالش لگانا گناہ ہے تو یہ گناہ کس کے سر پر ہے، بیوی پر یا شوہر پر؟ اگر یہ بات گناہ ہے تو اس گناہ کو گناہ سمجھانے کے لئے یہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، شوہر پر یا بیوی پر؟ حکومت کے پاس ذرائع ابلاغ ہیں، ان کے ذریعہ اگر اس کی تشہیر کی جائے تو کیسا رہے گا؟

جواب:۔

ناخن پالش کی اگر تہ جم گئی ہو تو اس کو چھڑائے بغیر وضو اور غسل نہیں ہوگا، یہی حکم اور چیزوں کا ہے جو پانی کے بدن تک پہنچنے سے مانع ہوں۔(۱)

جواب:۔

اگر ناخن پالش لگانے سے نمازیں غارت ہوتی ہیں اور شوہر باوجود علم کے اس سے منع نہ کرے تو مرد و عورت دونوں گناہگار ہوں گے،(۲) اگر شوہر کی خوشنودی کے لئے ناخن پالش لگالے تو وضو کرنے سے پہلے اس کو چھٹائے اور پھر وضو کرکے نماز پڑھے، ورنہ نماز نہیں ہوگی۔

  1. (۱) حوالہ بالا۔
  2. (۲) وفیہ: قطعت شعر رأسھا أثمت ولعنت زاد فی البزازیۃ وإن بإذن الزوج لأنہ لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۶ ص:۴۰۷، فصل فی البیع)۔