ناخنپالشکیبلا
ناخن پالش کو موزوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں
سوال:۔
جس طرح وضو کرکے موزہ پہن لیا جائے تو دُوسرے وضو کے وقت پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف جراب کے اُوپر مسح کرلیا جاتا ہے، اسی طرح وضو کرکے ناخن پالش لگالیا جائے تو دُوسرا وضو کرتے وقت اسے چھڑانے کی ضرورت تو نہیں ہے؟
جواب:۔
چمڑے کے موزوں پر تو مسح بالاتفاق جائز ہے،(۱) جرابوں پر مسح اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جائز نہیں،(۲) اور ناخن پالش کو موزوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں، اس لئے اگر ناخن پالش لگی ہو تو وضو اور غسل نہیں ہوگا۔(۳)
- (۱) المسح علی الخفین جائز بالسُّنّۃ والأخبار فیہ مستفیضۃ حتّٰی قیل إن من لم یرہ کان مبتدعًا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۵۶، باب المسح علی الخفین، طبع مکتبہ شركت علمیہ، ملتان)۔
- (۲) ولَا یجوز المسح علی الجوربین عند أبی حنیفۃ، إلّا أن یكونا مجلدین أو منعلین۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۶۱، باب المسح علی الخفین)۔
- (۳) لو کان علیہ جلد سمك أو خبز ممضوغ قد جف فتوضأ ولم یصل الماء إلٰی ما تحتہ لم یجز لأن التحرّز عنہ ممكن، كذا فی المحیط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵، كتاب الطھارۃ، الباب الأوّل فی الوضوء)۔

