ناخنپالشکیبلا
نیل پالش اور لپ اسٹک کے ساتھ نماز
سوال:۔
چند روز قبل ہمارے گھر ’’آیتِ کریمہ‘‘ کا ختم تھا، جن میں چند رشتہ دار عورتیں آئیں، جن میں کچھ فیشن میں ملبوس تھیں، فیشن سے مراد ناخن میں نیل پالش، بدن میں پرفیوم، ہونٹوں میں لپ اسٹک وغیرہ تھا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو نماز کے لئے کھڑی ہوگئیں، جب ان سے کہا گیا کہ ان چیزوں سے وضو نہیں رہتا تو نماز کیسے ہوگی؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نیت دیکھتا ہے۔ تو کیا مولانا صاحب! نیل پالش، پرفیوم، لپ اسٹک وغیرہ سے وضو برقرار رہتا ہے؟ کیا ان سب چیزوں کے استعمال کے بعد نماز ہوجاتی ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں، نوازش ہوگی۔
جواب:۔
خدا تعالیٰ صرف نیت کو نہیں دیکھتا، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ جو کام کیا گیا وہ اس کی شریعت کے مطابق بھی ہے یا نہیں؟ مثلاً کوئی شخص بے وضو نماز پڑھے اور یہ کہے کہ خدا نیت کو دیکھتا ہے تو اس کا یہ کہنا خدا اور رسول کا مذاق اُڑانے کے ہم معنی ہوگا، اور ایسے شخص کی عبادت، عبادت ہی نہیں رہتی۔ اس لئے فیشن ایبل خواتین کا یہ استدلال بالکل مہمل ہے کہ خدا نیت کو دیکھتا ہے، ناخن پالش اور لپ اسٹک اگر بدن تک پانی کو نہ پہنچنے دے تو وضو نہیں ہوگا، اور جب وضو نہ ہوا تو نماز بھی نہیں ہوئی۔(۱)
- (۱) ولَا بد من زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد، كطلاء الأظافر ونحوھا۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۱ ص:۶۱، طبع بیروت)۔

