ناخنپالشکیبلا
ناخن پالش لگانا کفار کی تقلید ہے، اس سے نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، نہ نماز
سوال:۔
آج کل نوجوان لڑکیاں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا لڑکیاں جو ناخنوں کو پالش لگاتی ہیں اس کو صاف کرنے کے بعد وضو کریں یا پالش کے اُوپر سے ہی وضو ہوجائے گا؟ کئی سمجھدار اور تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخنوں کی پالش صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجائے گا۔
جواب:۔
ناخنوں سے متعلق دو بیماریاں عورتوں میں، خصوصاً نوجوان لڑکیوں میں بہت ہی عام ہوتی جارہی ہیں، ایک ناخن بڑھانے کا مرض اور دُوسرا ناخن پالش کا۔ ناخن بڑھانے سے آدمی کے ہاتھ بالکل درندوں جیسے ہوتے ہیں اور پھر ان میں گندگی بھی رہ سکتی ہے، جس سے ناخنوں میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف النوع بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کو ’’فطرت‘‘ میں شمار کیا ہے، ان میں ایک ناخن تراشنا بھی ہے۔(۱) پس ناخن بڑھانے کا فیشن انسانی فطرت کے خلاف ہے، جس کو مسلم خواتین کافروں کی تقلید میں اپنا رہی ہیں، مسلم خواتین کو اس خلافِ فطرت تقلید سے پرہیز کرنا چاہئے۔
دُوسرا مرض ناخن پالش کا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے عورت کے اعضاء میں فطری حسن رکھا ہے، ناخن پالش کا مصنوعی لبادہ محض غیرفطری چیز ہے، پھر اس میں ناپاک چیزوں کی آمیزش بھی ہوتی ہے، وہی ناپاک ہاتھ کھانے وغیرہ میں استعمال کرنا طبعی کراہت کی چیز ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ناخن پالش کی تہ جم جاتی ہے اور جب تک اس کو صاف نہ کردیا جائے، پانی نیچے نہیں پہنچ سکتا۔(۲) پس نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، آدمی ناپاک کا ناپاک رہتا ہے۔ جو تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخن پالش کو صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجاتا ہے وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، اس کو صاف کئے بغیر آدمی پاک نہیں ہوتا، نہ نماز ہوگی، نہ تلاوت جائز ہوگی۔
- (۱) عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: عشر من الفطرۃ: قص الشارب ۔۔۔ وقص الأظفار ۔۔ ۔ الخ۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۹، باب السواك من الفطرۃ)۔
- (۲) ولو انضمت الأصابع أو طال الظفر فغطی الأنملۃ أو کان فیہ ما یمنع الماء كعجین وجب غسل ما تحتہ۔ (نور الْإیضاح ص:۳۱، فصل فی الوضوء)۔

