پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
حیض کی حالت میں قرآن و حدیث کی دُعائیں پڑھنا
سوال:۔
اسلامی کتب میں جگہ جگہ حوالوں کے لئے قرآنی آیات درج ہیں، اگر ان کا اُردو ترجمہ بھی تحریر نہ ہو تو اس حالت میں اس قرآنی آیت کا پڑھنا کیسا ہے؟
سوال:۔
مخصوص ایام میں قرآنِ پاک کی وہ سورتیں جو کہ روز پڑھنے کا معمول ہے، زبانی یاد ہوں تو پڑھ سکتے ہیں؟ اور روزانہ کا ۵۰۰ مرتبہ دُرود شریف پڑھنے کا معمول ہے، کیا ان ایام میں ۵۰۰ مرتبہ دُرود شریف اور چند سورتیں زبانی پڑھ سکتے ہیں؟ اور عام طور سے جو وظیفے مثلاً: چہرے کی روشنی کے لئے ﵟ ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ ﵞاوّل آخر دُرود شریف پڑھ سکتے ہیں؟
جواب:۔
قرآنِ کریم کی آیات کو دِل میں پڑھ سکتے ہیں۔(۱)
قراء ت منع ہے، سوچنا منع نہیں ہے۔
وجہہ ان القرائۃ فعل اللسان۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۵۵، باب صفۃ الصلٰوۃ)۔
حیض کی حالت میں قرآن و حدیث کی دُعائیں پڑھنا
جواب:۔
خاص ایام میں عورتوں کو قرآنِ کریم کی تلاوت جائز نہیں،(۱) قرآن و حدیث کی دُعائیں دُعا کی نیت سے پڑھی جاسکتی ہیں، دیگر ذکر اذکار، دُرود شریف پڑھنا جائز ہے۔(۲)
(۱) لَا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شیئًا من القرآن۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۸، طبع بلوچستان)۔
- (۱) ولیس للحائض والجنب والنفساء قراءۃ القرآن۔ (ھدایۃ أوّلین ص:۶۴، باب الحیض والْإستحاضۃ)۔
- (۲) وإن قرأ ما دون الآیۃ أو قراءۃ الفاتحۃ علٰی قصد الدعاء ونحوھا علٰی نیۃ الدعاء یجوز۔ (منیۃ المصلی مع غنیۃ المستملی ص:۵۷، مطلب الغسل فی أربعۃ سنۃ، أیضًا شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۳۴۶)۔

