پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
خواتین اور معلّمات خاص ایام میں تلاوت کس طرح کریں؟
سوال:۔
خواتین اپنے خاص ایام میں قرآن شریف کی تلاوت کرسکتی ہیں یا نہیں؟
سوال:۔
بعض معلّمات جو کہ قاعدہ، ناظرہ یا حفظ کی تعلیم دیتی ہیں، کیا وہ اس وجہ سے کہ بچوں کی تعلیم کا حرج ہوگا، بچوں کو پڑھانے کے لئے قرآن شریف کی تلاوت کرسکتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر تعلیم کا سلسلہ کس طرح جاری رکھا جائے؟
سوال:۔
خواتین اپنے خاص ایام میں کسی شخص کی، یا کیسٹ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے تلاوتِ قرآن سن سکتی ہیں؟
جواب۱:۔
خواتین کے لئے خاص ایام میں قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کو چھونا جائز نہیں ہے،(۱) چاہے قرآنِ کریم کی ایک آیت کی تلاوت کی جائے یا ایک آیت سے بھی کم، ہر صورت میں تلاوتِ قرآن جائز نہیں۔(۲) البتہ قرآن کی بعض وہ آیات جو کہ دُعا اور اذکار کے طور پر پڑھی جاتی ہیں ان کو دُعا یا ذکر کے طور پر پڑھنا جائز ہے۔ مثلاً کھانا شروع کرتے وقت ’’بسم اللہ‘‘ یا شکرانہ کے لئے ’’الحمدللہ‘‘ کہنا، اسی طرح قرآن کے وہ کلمات جو کہ عام بول چال میں استعمال میں آجاتے ہیں ان کا کہنا بھی جائز ہے۔(۳)
جواب۲:۔
قرآنِ کریم کی تعلیم دینے والی معلّمات کے لئے بھی قرآنِ کریم کی تلاوت اور قرآنِ کریم کو چھونا جائز نہیں، باقی یہ کہ تعلیم کا سلسلہ کس طرح جاری رکھا جائے؟ اس کے لئے فقہاء نے یہ طریقہ بتلایا ہے کہ وہ آیتِ قرآنی کلمہ کلمہ الگ الگ کرکے پڑھیں، مثلاً: ٱلۡحَمۡدُ... لِلَّهِ رَبِّ... ٱلۡعَٰلَمِينَ۔ اس طرح معلمہ کے لئے قرآنی کلمات کے ہجے کرنا بھی جائز ہے۔(۴)
جواب۳:۔
خواتین کے لئے خاص ایام میں تلاوتِ قرآن کی ممانعت تو حدیث شریف میں آتی ہے،(۵) لیکن قرآن سننے کی ممانعت نہیں آتی، لہٰذا ان خاص ایام میں کسی شخص سے یا ریڈیو اور کیسٹ وغیرہ سے تلاوتِ قرآن سننا جائز ہے۔
- (۱) ولیس للحائض والجنب والنفساء قراءۃ القرآن ولیس لھم مس المصحف إلّا بغلافہ۔ (ھدایۃ أولین ص:۶۴، باب الحیض والْإستحاضۃ، أیضًا درمختار ج:۱ ص:۲۹۲، ۲۹۳، أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۳۴۵)۔
- (۲) ویمنع صلاۃ ۔۔۔ وقراءۃ قرآن بقصدہ ومسہ ۔۔۔ ولَا بأس لحائض وجنب بقراءۃ أدعیۃ ومسھا وحملھا وذكر اللہ تعالٰی وتسبیح (وفی الشامیۃ) (قولہ وقراءۃ القرآن) أو ولو دون آیۃ من المركبات لَا المفردات لأنہ جوز للحائض المعلّمۃ تعلیمہ كلمۃ كلمۃ ۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۲۹۳، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۳) فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعلیم ولقن كلمۃ كلمۃ حل فی الأصح۔ (درمختار ج:۱ ص:۱۷۲، مطلب یوم عرفۃ أفضل من یوم الجمعۃ)۔
- (۴) ولقن كلمۃ كلمۃ حل فی الأصح۔ (قولہ: ولقن كلمۃ كلمۃ) ھو المراد بقول المنیۃ حرفًا حرفًا كما فسرہ بہ فی شرحھا والمراد مع القطع بین كل كلمتین۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۱ ص:۱۷۲)۔
- (۵) عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تقرأ الحائض ولَا الجنب شیئًا من القرآن۔ (سنن الترمذی ج:۱ ص:۱۹، باب ما جاء فی الجنب والحائض أنھما لَا یقرآن القرآن)۔

