بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پاکی‌سے‌متعلق‌عورتوں‌کے‌مسائل

مخصوص ایام میں عورت نماز کے وقت کیا کرے؟

سوال:۔

کتاب ’’رکن دین‘‘ مصنف مولانا شاہ محمد رکن الدین الوری میں صفحہ نمبر۳۵ کی آخری لائنوں میں لکھا ہے کہ: ’’بلکہ مستحب یہ ہے (مخصوص دنوں میں) کہ جب نماز کا وقت ہو تو وضو کرے اور گھر میں نماز کی جگہ پر آبیٹھے اور جتنی دیر میں نماز اَدا کرتی تھی، اتنی دیر تک سُبْحَانَ اللہِ وَلاَ إِلٰهَ إِلَّا اللہُ پڑھتی رہے۔‘‘ آپ بتائیے کہ کیا یہ طریقہ دُرست ہے؟

میں نماز پابندی سے پڑھتی ہوں، مخصوص دِنوں میں والد یا بھائی کی وجہ سے شرم آتی ہے، تو اس صورت میں، میں مندرجہ بالا طریقے کے ساتھ نماز کی حرکات مثلاً: ہاتھ اُٹھانا، ہاتھ باندھنا، رُکوع اور سجود وغیرہ میں یہی تسبیح پڑھ سکتی ہوں؟ کیونکہ اس طرح میں شرمندگی سے بچ سکتی ہوں اور کسی کو مخصوص دنوں کا پتا بھی نہ چلے گا۔ اس طرح بہت سی مسلمان لڑکیوں کو فائدہ ہوگا۔

جواب:۔

نہیں ایسا نہ کیجئے، وضو کرکے مصلیٰ پر بیٹھ کر تسبیح پڑھتی رہئے۔(۱)

  1. (۱) یستحب للحائض إذا دخل وقت الصلاۃ أن تتوضأ وتجلس عند مسجد بیتھا تسبّح وتھلّل قدر ما یمكنھا أداء الصلاۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۸، طبع بلوچستان)۔