پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
خاص ایام میں عورت کا زبان سے قرآنِ کریم پڑھنا جائز نہیں
سوال:۔
ہم نے بچپن میں قرآنِ پاک نہیں پڑھا تھا، اس لئے اب پڑھ رہے ہیں، ہماری اُستانی کہتی ہیں کہ تم قرآن شریف مخصوص دنوں میں بھی پڑھا کرو، سپارہ کے صفحے میں پلٹ دیا کروں گی، کیونکہ پڑھتے تو زبان سے ہیں اور زبان پاک ہوتی ہے۔ اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا ہم ان دنوں میں قرآن شریف پڑھ سکتے ہیں؟
جواب:۔
ایام کی حالت میں عورت کا زبان سے قرآنِ کریم پڑھنا جائز نہیں، اسی طرح جس مرد یا عورت پر غسل فرض ہو، اس کے لئے بھی قرآنِ کریم کی تلاوت جائز نہیں۔(۱) آپ کی اُستانی کا بتایا ہوا مسئلہ صحیح نہیں، اس حالت میں زبان کھانے پینے کے لئے تو پاک ہوتی ہے، مگر تلاوت کے حق میں پاک نہیں۔ جس طرح بے وضو آدمی کے اعضاء تو پاک ہوتے ہیں لیکن جب تک وضو نہ کرلے نماز کے لئے پاک نہیں ہوتے، اس کو نجاستِ حکمی کہتے ہیں۔ جنابت اور حیض و نفاس کی حالت میں بھی زبان حکماً ناپاک ہوتی ہے، ہاں ذکر و تسبیح اور دُعا کی اس حالت میں بھی اجازت ہے۔(۲)
- (۱) ولیس للحائض والجنب والنفساء قراءۃ القرآن۔ (ھدایۃ أوّلین ص:۶۴، باب الحیض والْإستحاضۃ، أیضًا درمختار ج:۱ ص:۲۹۳)۔ أیضًا: عن ابن عمر رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یقرأ الجنب ولَا الحائض شیئًا من القرآن۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۳۴۵)۔ أیضًا: عن علی رضی اللہ عنہ قال: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یكن یحجبہ عن قرآن القرآن شیء لیس الجنابۃ۔ أیضًا۔
- (۲) یجوز للجنب والحائض الدعوات وجواب الأذان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۸، طبع بلوچستان)۔

