پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
پاکی حاصل کرنے میں وہم اور اُس کا علاج
سوال:۔
میں بی اے کی طالبہ ہوں، ہمارا گھر تھوڑا بہت مذہبی ہے، نماز تقریباً سب ہی لوگ پڑھتے ہیں، لیکن جب سے میں نے نماز شروع کی ہے، آہستہ آہستہ آج ایسی ہوگئی ہوں کہ اگر کسی کا پاؤں لگ جائے تو دھونے بیٹھ جاتی ہوں، اگر جھاڑو کسی کپڑے کو لگ جائے تو فوراً دھوتی ہوں، اگر گیلا پونچھا کمرے میں لگتا ہے تو میں اس سے بچتی ہوں، چھینٹوں سے تو اس طرح بچتی ہوں جیسے انسان آگ سے بچتا ہے، اگر پانی زمین پر گرا اور میرے کپڑوں پر چھینٹیں آگئیں تو پائینچے دھوتی ہوں کہ ہر وقت میرے پائینچے گیلے رہتے ہیں، کیونکہ ہمارا چھوٹا سا گھر ہے، آخر کب تک کمرے میں رہا جاسکتا ہے؟
بس میری یہ ہی کیفیت ہے جس کی وجہ سے اب گھر والے مجھے نفسیاتی مریضہ، ذہنی مریضہ اور وہمن کے نام سے پکارتے ہیں، جس پر مجھے دِلی دُکھ ہوتا ہے اور پھر میں یہ سوچتی ہوں کہ اب ایسا نہ کروں گی، لیکن پھر ایسا نہیں کرپاتی۔ خیال آتا ہے کہ اگر کپڑے ناپاک ہوگئے تو نماز نہ ہوگی۔ گھر والے مجھے ہر وقت پانی میں گھسے رہنے سے منع کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مجھے اب ایگزیما بھی ہوگیا ہے، لیکن میں کہتی ہوں کہ میرے اُوپر کسی قسم کی چھینٹ نہ آئے۔ گھر والے کہتے ہیں کہ ہمارے گھر میں کوئی بچہ نہیں ہے کہ جس کے پیشاب وغیرہ کی چھینٹ سے تیرے کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔ کبھی کبھی جب مجھے اس بات پر ڈانٹ پڑتی ہے تو میرا دِل چاہتا ہے کہ نماز ہی چھوڑ دُوں، تاکہ میں ان چیزوں سے نجات پاسکوں، لیکن دِل نہیں مانتا اور نماز کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ آپ میرے سوال کا جلد از جلد جواب دے کر ذہنی اذیت سے نجات دِلاسکتے ہیں۔
جواب:۔
بیٹی! ایک بات سمجھ لو، اگر پاکی ناپاکی کا مسئلہ اتنا ہی مشکل ہوتا، جتنی مشکل کہ آپ نے اپنے اُوپر ڈال رکھی ہے، تو دُنیا کا کارخانہ ہی بند ہوجاتا۔ آپ کی طرح ہر شخص بس پائینچے دھونے ہی میں لگا رہتا۔ یہ تمہیں وہم کا مرض ہے اور اس کا علاج بہت آسان ہے۔ وہ یہ کہ جن چیزوں کی وجہ سے آپ کو ناپاکی کی فکر لگی رہتی ہے ان کی ذرا بھی پروا نہ کرو، اور جب تمہارا شیطان یوں کہے کہ یہ چھینٹے ناپاک تھے، فلاں چیز ناپاک تھی تو شیطان سے کہو کہ: تو غلط کہتا ہے، میں تیری بات نہیں مانوں گی۔ اگر ایک مہینے تک آپ نے میرے کہنے پر عمل کرلیا تو اِن شاء اللہ تعالیٰ اس وہم کے مرض سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی۔

