پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
ناپاک عورت کا بستر پر بیٹھنا، کپڑوں کو ہاتھ لگانا
سوال:۔
اگر گھر میں کسی کے خاص ایام ہوں تو کیا ہمیں اس سے دُور رہنا چاہئے؟ میرا مطلب ہے کہ اگر وہ ہمارے بستر پر بیٹھ جائے یا چلتے چلتے ہماری اس سے ٹکر ہوجائے تو کیا ہمارا بستر، یا ہمارے کپڑے ناپاک ہوجائیں گے؟ ہمیں بستر وغیرہ دھونا پڑے گا، اور کیا ہمیں کپڑے بدل کر نماز یا قرآن پڑھنا ہوگا یا نہانا ہوگا؟
جواب:۔
خاص ایام میں عورت نماز نہیں پڑھ سکتی، روزہ نہیں رکھ سکتی،(۱) تلاوت نہیں کرسکتی،(۲) اور شوہر سے قربت نہیں کرسکتی۔ لیکن کھانا پکاسکتی ہے، کپڑے دھوسکتی ہے، بستر پر بیٹھ سکتی ہے، اس کے بستر پر بیٹھنے سے بستر ناپاک نہیں ہوتا اور اس کے بدن کو ہاتھ یا کپڑا لگنے سے ہاتھ اور کپڑا ناپاک نہیں ہوتے۔(۳)
- (۱) یسقط من الحائض الصلاۃ ۔۔۔ یحرم علیھا الصوم ۔۔۔ وحرمہ الجماع ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۹، ۴۰)۔
- (۲) عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تقرأ الحائض ولَا الجنب شیئًا من القرآن۔ (جامع الترمذی ج:۱ ص:۱۹، باب ما جاء فی الجنب والحائض أنھما لَا یقرئان القرآن)۔
- (۳) صفحۂ ھٰذا کا حوالہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔ نیز: عن القاسم بن محمد قال: قالت عائشۃ: قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ناولینی الخمرۃ من المسجد، قالت: قلت: إنّی حائض! قال: إنّ حیضتك لیست فی یدك۔ (جامع الترمذی ج:۱ ص:۱۹، باب ما جاء فی الحائض تتناول الشیء من المسجد)۔

