پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
اگر کسی کا حمل ضائع ہوگیا تو نماز روزہ کب کرے؟
سوال:۔
۱۲؍فروری کو میرا تقریباً ڈیڑھ ماہ کا حمل ضائع ہوگیا ہے، اس کی کل مدّت تو چالیس روز ہے، لیکن آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ پندرہ بیس دن کے بعد اگر ماہواری نہ آئے تو کیا نماز روزہ کیا جاسکتا ہے؟
جواب:۔
آپ کے سوال کے سلسلے میں چند مسائل قابلِ ذِکر ہیں:
۱:۔ بچے کی ولادت کے بعد جو خون آتا ہے اس کو حیض نہیں بلکہ ’’نفاس‘‘ کہا جاتا ہے۔(۱)
۲:۔ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدّت چالیس دن ہے، اور کم سے کم کی کوئی حد نہیں، پس اگر ایک آدھ دن خون آکر بند ہوجائے تو عورت غسل کرکے نماز روزہ کرے۔(۲)
۳:۔ جو حمل ضائع ہوجائے تو دیکھیں گے کہ بچے کا کوئی عضو کیا بن گیا ہے یا نہیں؟ اگر ایک آدھ عضو بن گیا ہو تو حمل گرنے کے بعد جو خون آئے وہ نفاس ہے۔ اور اگر کوئی عضو نہیں بنا تھا، بس گوشت کا لوتھڑا تھا، تو یہ نفاس نہیں۔ پس اس خون کو اگر حیض شمار کرنا ممکن ہو تو حیض ہے، ورنہ اِستحاضہ (بیماری کا خون) شمار ہوگا۔(۳)
۴:۔ آپ کے سلسلے میں اگر بچے کا کوئی عضو بنا ہوا تھا تو یہ پندرہ بیس دن کا خون نفاس ہے، اور جب بند ہوگیا تو آپ کو غسل کرکے نماز روزہ کرنا چاہئے تھا۔ اور اگر کوئی عضو بنا ہوا نہیں تھا، تو آپ کی جتنے دن کی عادت اَیام کی تھی، اتنے دن حیض شمار ہوں گے، باقی زائد دِنوں کا خون اِستحاضہ تھا، ان میں آپ کو غسل کرکے نماز روزہ کرنا چاہئے تھا۔ بہرحال اب اتنے دنوں کی نمازیں قضا کرنا ہوں گی۔
- (۱) النفاس ھو دم یعقب الولَادۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۶، طبع بلوچستان)۔
- (۲) أقل النفاس ما یوجد ولو ساعۃ وأكثرہ أربعون۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۷، ۳۸)۔ أیضًا: وأكثر النفاس أربعون یومًا ولَا مقدار لأقلہ إنما ھو کان الدم ۔۔۔ عن عثمان بن أبی العاص رضی اللہ عنہ قال: وقّت النبی صلی اللہ علیہ وسلم للنفساء أربعین یومًا فإذا مضت، إغتسلت وصلت۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۸۷، كتاب الطھارۃ)۔
- (۳) سقط أی مسقوط ظھر بعض خلقہ كید أو رجل ولد فتصیر بہ نفساء ۔۔۔ فإن لم یظھر لہ شیء فلیس بشیء۔ والمرئی حیض إن دام ثلاثًا ۔۔۔ والْإستحاضۃ ولو لم یدر حالہ ولَا عدد أیام حملھا ودام الدم تدع الصلاۃ أیام حیضھا بیقین ثم تغتسل ثم تصلی کالمعذور۔ (الدر المختار مع الرد ج:۱ ص:۳۰۲)۔

