بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پاکی‌سے‌متعلق‌عورتوں‌کے‌مسائل

اسلام میں عورت کے لئے خصوصی ایام میں مراعات

سوال:۔

مجبوری کے دنوں میں عورت کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

زمانۂ جاہلیت اور خاص کر یہودیوں کے معاشرے میں عورت، ایامِ مخصوصہ میں بہت نجس چیز سمجھی جاتی تھی، اور اس کو ایک کمرے میں بند کردیتے تھے، نہ وہ کسی چیز کو ہاتھ لگاسکتی تھی، نہ کھانا پکاسکتی تھی اور نہ کسی سے مل سکتی تھی۔(۱) لیکن اسلام کے معتدل نظام نے ایسی کوئی چیز باقی نہیں رکھی سوائے روزہ نماز اور تلاوتِ کلامِ پاک کے۔ باقی تمام چیزیں اس کے لئے جائز قرار دیں حتیٰ کہ وہ ذکراللہ اور دُرود شریف اور دیگر دُعائیں پڑھ سکتی ہے، اور وظائف سوائے قرآن کے کرسکتی ہے۔(۲) خاص ایام میں وظیفۂ زوجیت کی اجازت نہیں، نماز روزہ بھی نہیں کرسکتی، اس کے ذمہ روزہ کی قضا ہے، نماز کی قضا نہیں۔(۳) الغرض! ان ایام میں عورت کا کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور دیگر گھریلو خدمات بجالانا جائز ہے۔(۴)

  1. (۱) ﵟ وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ ﵞأخرج الْإمام أحمد ومسلم وأبو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وغیرھم عن أنس رضی اللہ تعالٰی عنہ أن الیھود کانوا إذا حاضت المرأۃ منھم أخرجوھا من البیوت ولم یؤاكلوھا ولم یشاربوھا ولم یجامعوھا فی البیوت ۔۔۔الخ۔ (رُوح المعانی ج:۲ ص:۱۲۱)۔ أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۶۴ طبع دار البشائر الْإسلامیۃ، بیروت)۔
  2. (۲) (یمنع صلاۃ) مطلقًا ولو سجدۃ شكر (وصوما) ۔۔۔ وقراءۃ قرآن ۔۔۔ ولَا بأس لحائض وجنب بقراءۃ أدعیۃ ومسھا وحملھا وذكر اللہ تعالٰی وتسبیح ۔۔۔الخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۱ ص:۲۹۳)۔
  3. (۳) (یمنع صلاۃ) مطلقًا ولو سجدۃ شكر (وصومًا) وجماعًا (وتقضیہ) لزومًا دونھا للحرج۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۲۹۰، ۲۹۱، باب الحیض، مطلب لو افتٰی مفت ۔۔۔الخ)۔
  4. (۴) ولَا یكرہ طبخھا ولَا استعمال ما مستہ من عجین أو ماء أو نحوھما۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۲۹۲، باب الحیض، مطلب لو افتٰی مفت ۔۔۔الخ)۔