بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پاکی‌سے‌متعلق‌عورتوں‌کے‌مسائل

حالتِ حیض ونفاس میں عورت سے کتنا مس کرسکتا ہے؟

سوال:۔

زید شادی شدہ آدمی ہے، اس کی بیوی حالتِ حیض میں ہے، یا حالتِ نفاس میں ہے، کیا ایسی صورت میں زید اس کے ہاتھ میں اپنا عضوِ تناسل پکڑا سکتا ہے یا نہیں؟ یا اسی طرح سے اس کے ہاتھ میں اِنزال کرسکتا ہے یا نہیں؟ یہ اس وقت ہوا جبکہ اس پر شہوت کا غلبہ تھا، اسی طرح سے بیوی کو لمس کرنے یا اعضائِ تناسل کو رگڑنے کے لئے کہہ سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ اِنزال بھی رگڑنے سے ہوجائے۔

جواب:۔

شوہر کا اس حالت میں بیوی کی ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصے کو بلاپردہ مس کرنا جائز نہیں،(۱) عورت کو اس کے تمام بدن کو ہاتھ لگانا جائز ہے، اور غلبۂ شہوت میں اس کے ہاتھ یا بدن کے دُوسرے حصوں سے مس کرنا جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) للزوج فی حالۃ الحیض أن یقبّلھا ویضاجعھا ویستمتع بجمیع بدنھا ما خلا ما بین السُّرَّۃ والرُّكبۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۹)۔ أیضًا: وأما الحائض فإنہ یحرم علیہ قربان ما تحت الْإزار۔ (شامی ج:۶ ص: ۳۶۶)۔
  2. (۲) وعبارۃ الفتح فإن غلبتہ الشھوۃ ففعل إرادۃ تسكینھا بہ فالرجاء أن لَا یعاقب اھـ زاد فی معراج الدرایۃ وعن أحمد والشافعی فی القدیم الترخیص فیہ وفی الجدید یحرم ویجوز أن یستمنی بید زوجتہ وخادمتہ اھـ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۳۹۹)۔ أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۶۲)۔