پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
خاص ایام میں مقاربت کا گناہ کرنے پر توبہ، اِستغفار اور صدقہ
سوال:۔
ہم نے سنا ہے کہ جب عورت کو ایام آئیں تو مرد کو اس کے پاس جانے کی ممانعت ہے، مگر پھر بھی اگر مرد اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور اس سے یہ کام سرزد ہوجائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اس کے نکاح میں کوئی فرق آیا یا نہیں؟ اور یہ گناہِ کبیرہ ہے یا صغیرہ ہے؟
جواب:۔
ایسی حالت میں بیوی سے ملنا جبکہ وہ ایامِ ماہواری میں ہو، ناجائز اور حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ توبہ، اِستغفار کرے اور اگر گنجائش ہو تو تقریباً چھ گرام چاندی یا اس کی قیمت صدقہ کرے، ورنہ توبہ، اِستغفار ہی کرتا رہے، مگر اس ناجائز فعل سے نکاح میں کوئی فرق نہیں آتا۔(۱)
- (۱) (و) یحرم بالحیض والنفاس (الجماع والْإستمتاع بما تحت السرۃ إلٰی تحت الركبۃ) لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ ﵞوقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: لك ما فوق الْإزار، فإن وطئھا غیر مستحل لہ یستحب أن یتصدق بدینار أو نصفہ ویتوب۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص: ۷۸، باب الحیض والنفاس والْإستحاضۃ)۔ أیضًا: ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال: سألت النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ما یحل للرجل من إمرأتہ وھی حائض فقال: ما فوق الْإزار۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۶۱، طبع بیروت)۔

