بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پاکی‌سے‌متعلق‌عورتوں‌کے‌مسائل

حیض کی چند صورتیں اور اُن کا حکم

سوال:۔

ہفتے سے مخصوص دن شروع ہوا، اور منگل تک ختم ہوا، میں نے جمعہ کو نہاکر نماز اَدا کی، اب یہ بتائیے کہ بدھ اور جمعرات کی قضا نمازیں کی جائیں یا نہیں؟ یہ بتائیے کہ مخصوص ایام کے ساتھ دن پورے ہونے کے بعد (چاہے تین دن بعد ہی مخصوص دن ختم ہوجائیں) نماز اَاد کی جائے یا مخصوص ایام ختم ہونے کے ساتھ ہی نہاکر نماز اَدا کی جائے؟ اس بارے میں بہت سی ساتھیوں کو علم نہیں ہے، ضرور جواب دیجئے۔

جواب:۔

ماہواری کی مدّت کم سے کم تین دن ہے، اور زیادہ سے زیادہ دس دن۔(۱) عام طور پر مستورات کی عادت کے دن مقرّر ہوتے ہیں، مثلاً :سات دن۔ اب خون بند ہونے کی چند صورتیں ہوسکتی ہیں:

۱:۔ خون تین دن سے کم میں بند ہوجائے، اس صورت میں عورت کو اِنتظار کرنا چاہئے کہ کچھ دن وقفے کے بعد دوبارہ نہ شروع ہوجائے، اگر دوبارہ آئے تو مدّتِ حیض میں یہ وقفہ بھی حیض ہی شمار ہوگا۔(۲) اور اگر تین دن سے کم میں بند ہوکر پھر نہ آئے تو یہ حیض نہیں،(۳) اس کی نمازیں لوٹائی جائیں۔(۴)

۲:۔ خون تین دن یا زیادہ آئے، لیکن عادت سے پہلے بند ہوجائے، اس صورت میں عورت کو عادت تک اِنتظار کرنا چاہئے، اگر دوبارہ پھر نہیں آیا تو جب سے بند ہوا اس وقت سے پاک سمجھی جائے گی۔ اس کو اتنی نمازیں قضا کرنی ہوں گی۔(۵)

۳:۔ عادت پر بند ہو، اس کا حکم واضح ہے کہ غسل کرکے نماز پڑھے۔

۴:۔ عادت سے بڑھ جائے، اس صورت میں اگر دس دن کے اندر اندر بند ہوجائے تو یہ حیض ہی شمار ہوگا۔ اور سمجھیں گے کہ عادت بدل گئی۔ اگر خدانخواستہ دس دن سے بڑھ جائے تو عادت سے زیادہ جتنے دن گزرے ہیں وہ پاکی کے شمار ہوں گے، اور ان کی نمازیں لوٹانی ہوں گی۔(۶)

  1. (۱) أقل الحیض ثلاثۃ أیام ولیالیھا وما نقص من ذٰلك فھو إستحاضۃ لقولہ علیہ السلام: أقل الحیض للجاریۃ البكر والثیب ثلاثۃ أیام ولیالیھا ۔۔۔ وأكثرہ عشرۃ أیام والزائد إستحاضۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۶۲، باب الحیض والْإستحاضۃ)
  2. (۲) الطھر المتخلل بین الدمین والدماء فی مدۃ الحیض یكون حیضًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۶)۔
  3. (۳) أقل الحیض ثلاثۃ أیام ولیالیھا ۔۔۔ فما نقص عن ذالك فلیس بحیض وھو إستحاضۃ لقولہ علیہ السلام: أقل الحیض ثلاثۃ أیام وأكثرہ عشرۃ أیام۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۹، طبع بمبئی)۔
  4. (۴) ودم الْإستحاضۃ الرعاف الدائم لَا یمنع الصلاۃ ولَا الصوم ولَا الوطء كذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۹)۔
  5. (۵) لو إنقطع دمھا دون عادتھا یكرہ قربانھا وإن اغتسلت حتّٰی تمضی عادتھا وعلیھا أن تصلی وتصوم للإحتیاط ھٰكذا فی التبیین ۔۔۔ إنتقال العادۃ یكون بمرّۃ عند أبی یوسف وعلیہ الفتویٰ ھٰكذا فی الکافی فإن رأت بین طھرین تامین دما لَا علٰی عادتھا بالزیادۃ والنقصان أو بالتقدم أو التأخر أو بھما معا إنتقلت العادۃ إلٰی أیام دمھا حقیقیا کان الدم أو حكمیا ھٰذا إذا لم یجاوز العشرۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۹، طبع بلوچستان)۔
  6. (۶) ولو زاد الدم علٰی عشرۃ أیام ولھا عادۃ معروفۃ دونھا ردت إلٰی عادتھا والذی زاد إستحاضۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۶۷، باب الحیض والْإستحاضۃ)۔