پاکیسےمتعلقعورتوںکےمسائل
غسل کے بعد اگر خون آجائے تو کیا کیا جائے؟
سوال:۔
عورتوں کے خاص ایام کے بعد غسل کیا جائے اور غسل کے ایک آدھ دن گزرنے کے بعد کچھ حیض آئے تو اس صورت میں بدن پر پانی بہانا کافی ہوگا یا سر کے بالوں سے پانی بہانا بھی لازمی ہوگا۔ ایام کے گزرنے کے یقین کے بعد غسل یہ حالت اکثر وبیشتر پیش آئے تو کیا غسل لازم ہوگا اور اس کے بعد ہی نماز وغیرہ ادا کی جاسکتی ہے؟
جواب:۔
حیض کی مدّت دس دن ہے، اس دوران اگر دوبارہ خون آجائے تو عورت ناپاک ہوجائے گی،(۱) اور خون بند ہونے کے بعد دوبارہ غسل واجب ہوگا۔(۲)
- (۱) ومنھا النصاب أقل الحیض ثلاثۃ أیام وثلاث لیال فی ظاھر الروایۃ ھٰكذا فی التبیین وأكثرہ عشرۃ أیام ولیالیھا كذا فی الخلاصۃ ۔۔۔ الطھر المتخلل بین الدمین والدماء فی مدۃ الحیض یكون حیضًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۶)۔ أیضًا: عن عثمان بن أبی العاص وأنس بن مالك رضی اللہ عنھما فی الحیض أن أقلہ ثلاثۃ أیام وأكثرہ عشرۃ أیام وما بعد ذالك فھو إستحاضۃ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۸۳، طبع بیروت)۔
- (۲) ومنھا وجوب الْإغتسال عند الْإنقطاع ھٰكذا فی الكفایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۹، طبع بلوچستان)۔

