بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پاکی‌سے‌متعلق‌عورتوں‌کے‌مسائل

دس دن کے اندر آنے والا خون حیض ہی میں شمار ہوگا

سوال:۔

ایک عورت کو ہر مہینے چھ یا سات دن حیض رہتا ہے، لیکن کبھی کبھار پانچ دن گزرنے کے بعد جب صبح اُٹھتی ہے تو کوئی خون وغیرہ نہیں ہوتا، اس طرح وہ غسل کرلیتی ہے، لیکن غسل کرنے کے بعد پھر خون جاری ہوجاتا ہے، اسی طرح دُوسرے دن بھی ہوتا ہے، ۴، ۵ گھنٹے کچھ نہیں ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد پھر خون جاری ہوجاتا ہے۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ جن دنوں میں وقفے وقفے سے جو خون آتا رہا، یہ حیض میں شمار ہوگا یا استحاضہ میں؟ یعنی اگر کسی عورت کو ۵، ۶ گھنٹے یا کم و بیش وقت کے بعد پھر خون جاری ہوجائے تو وہ حیض شمار ہوگا یا نہیں؟ دوسرا ہر مہینے جو دن مقرّر ہیں اور ان مقرّرہ دنوں کے بعد ایسا ہوجائے تو پھر کیا حکم ہے؟

جواب:۔

حیض کی کم سے کم مدّت تین دن ہے، اور زیادہ سے زیادہ مدّت دس دن ہے، حیض کی مدّت کے دوران جو خون آئے، وہ حیض ہی شمار ہوگا، خواہ ۳،۴ گھنٹے کے وقفے ہی سے آئے۔(۱)

  1. (۱) باب المحیض ۔۔۔ (وأقلہ ثلاثۃ أیام بلیالیھا) الثلاث، فالْإضافۃ لبیان العدد المقدر بالساعات الفلكیۃ لَا للإختصاص ۔۔۔ (وأكثرہ عشرۃ) بعشر لیال، كذا رواہ الدارقطنی وغیرہ، (قولہ بالساعات) ۔۔۔ ثم اعلم أنہ لَا یشترط استمرار الدم فیھا بحیث لَا ینقطع ساعۃ، لأن ذٰلك لَا یكون إلّا نادرًا بل انقطاعہ ساعۃ أو ساعتین فصاعدًا غیر مبطل، كذا فی المستصفٰی بحر، أی لأن العبرۃ لأولہ وآخرہ ۔۔۔الخ۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۱ ص:۲۸۴، باب الحیض)۔ أیضًا: أقل الحیض ثلاثۃ أیام وأكثرہ عشرۃ أیام۔ والأصل فیہ ما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: لفاطمۃ بنت أبی حبیش رضی اللہ عنھا: دعی الصلاۃ أیام محیضتك ۔۔۔ وأقل ما یتناولہ اسم الأیام إذا أطلقت مع ذكر العدد: ثلاثۃ أیام وأكثرہ عشرۃ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۸۰، طبع بیروت)۔