موزوںپرمسح
کن موزوں پر مسح جائز ہے؟
سوال:۔
سردیوں کے موسم میں اکثر افراد نائیلون کے موزوں پر مسح کرتے ہیں، میں نے بھی فقہ کی بعض کتابوں میں پڑھا ہے کہ ہر ایسے موزے پر مسح جائز ہے، جس سے پیر نہ جھلکتے ہوں۔ مگر بعض لوگ پھر بھی مخالفت کرتے ہیں۔ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ کس قسم کے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟
جواب:۔
ایسی جرابوں پر مسح جائز ہے جو خوب موٹی ہوں اور کسی چیز سے باندھے بغیر تین چار میل ان کو پہن کر چل سکتا ہو۔ اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ایسی جرابوں پر مردانہ جوتے کی مقدار کا چمڑا چڑھا ہوا ہو، پس اگر جرابیں پتلی ہوں تو ان پر ہمارے فقہاء میں سے کسی کے نزدیک مسح جائز نہیں، اور اگر موٹی ہوں لیکن ان پر چمڑا نہ چڑھا ہوا تو اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مسح جائز نہیں، صاحبین (اِمام محمدؒ اور اِمام ابویوسفؒ) کے نزدیک جائز ہے۔(۱)
- (۱) ولَا یجوز المسح علی الجوربین عند أبی حنیفۃ إلّا أن یكونا مجلدین أو منعلین وقالَا: یجوز إذا کان ثخینین لَا یشفان۔ (ھدایۃ أولین ص:۶۱، باب المسح علی الخفین)۔ أیضًا: وأما المسح علی الجوربین فإن کانا مجلدین أو منعلین یجزیہ بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم یكونا مجلدین ولَا منعلین فإن کانا رقیقین یشفان الماء لَا یجوز المسح علیھما بالْإجماع وإذا کانا ثخنین لَا یجوز عند أبی حنیفۃ وعند أبی یوسف ومحمد یجوز۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۰)۔ أیضًا: یمكن المشی فیہ إذا کان ثخینًا كجوارب الصوف الیوم وبہ تبین أن المفتی بہ عند الحنفیۃ: جواز المسح علی الجوربین الثخینین بحیث یمشی علیھا فرسخًا أو فأكثر، ویثبت علی الساق بنفسہ ولَا یری ما تحتہ ولَا یشف، واشترط المالكیۃ کأبی حنیفۃ: أن یكون الجوربان مجلدین ظاھرھما وباطنھما حتّٰی یمكن المشی فیھما عادۃ، فیصیرا مثل النحف وھو محمل أحادیث المسح علی الجوربین۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۱ ص:۳۴۴، طبع دار الفكر، دمشق)۔

