بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تیمم

غسل کے بجائے تیمم کب جائز ہے؟

سوال:۔

اگر غسل واجب ہوجائے اور مرض بڑھنے یا بیمار ہوجانے کا خدشہ ہو تو کیا اس صورت میں تیمم ہوجائے گا اور غسل کے لئے تیمم کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟

جواب:۔

محض وہم کا اعتبار نہیں، اگر کسی شخص کی واقعی حالت ایسی ہو کہ وہ گرم پانی سے بھی غسل کرلے تو بیماری بڑھ جانے یا بیمار پڑجانے کا غالب گمان ہو تو اس کو غسل کی جگہ تیمم کی اجازت ہے،(۱) اور غسل کا تیمم وہی ہے جو وضو کا ہوتا ہے۔(۲)

  1. (۱) أو کان یجد الماء إلّا أنہ مریض یضرہ إستعمال الماء فخاف بغلبۃ الظن أو قول حاذق مسلم إن إستعمل الماء اشتدّ أو امتدّ مرضہ ۔۔۔ فإنہ یتم بالصعید۔ (اللباب فی شرح الكتاب ج:۱ ص:۵۲)۔
  2. (۲) والتیمم فی الجنابۃ والحدث سواء یعنی فعلًا ونیۃً۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۵ باب التیمم)۔