تیمم
پانی ہوتے ہوئے تیمم کرنا جائز نہیں
سوال:۔
میرے ایک دوست ہیں، نماز روزے کے بڑے پابند ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ نماز روزے کی پابندی اس لئے نہیں کرسکتے کہ اس معاملے میں اِنتہاپسند ہوجاتے ہیں، اور پھر پوری طرح اس پر عمل پیرا نہیں ہوسکنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیتے ہیں، اس لئے ہمیں اِعتدال سے کام لینا چاہئے۔ اسی لئے وہ اکثر رات کے وقت پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں سے فارغ ہوجاتے ہیں، تب عشاء کی نماز ادا کرتے ہیں، وغیرہ، وغیرہ۔ جبکہ میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر ہم کوئی فرض ادا کریں تو اسے پورے لوازمات کے ساتھ ادا کریں، اس کی تمام شرائط پوری کریں۔ بتائیے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:۔
آپ کی بات صحیح ہے، پانی ہوتے ہوئے تیمم نہیں ہوسکتا، آپ کے دوست کا یہ کہنا تو بجا ہے کہ ’’ہمیں اِعتدال سے کام لینا چاہئے‘‘ لیکن ہمیں ’’اِعتدال کا پیمانہ‘‘ اپنے پاس سے ایجاد کرنے کی اجازت نہیں کہ جس چیز کو ہماری طبیعت ’’اِعتدال‘‘ کہے، بس اس کو ’’اِعتدال‘‘ سمجھا جائے۔ اِعتدال کا پیمانہ خود شریعتِ مطہرہ ہے،چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے: ’’پھر نہ پاؤ تم پانی تو قصد کرو پاک مٹی کا‘‘،(۱) آپ دیکھ رہے ہیں کہ قرآنِ کریم نے پانی نہ مل سکنے کو تیمم کی شرط ٹھہرایا، پس یہ تو اِعتدال ہوا، اور جو شخص پانی کے ہوتے ہوئے بغیر کسی عذر کے تیمم سے نماز ٹرخالیتا ہے وہ بے اِعتدالی کا مرتکب ہے۔
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ٠فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا ﵞ المائدة ٦

