تیمم
تیمم کرنا کب جائز ہے؟
سوال:۔
ہمارے خاندان کی اکثر خواتین تیمم کرکے نماز پڑھتی ہیں، جبکہ گھر میں پانی بھی موجود ہوتا ہے، اور خواتین کو کوئی ایسی بیماری بھی نہیں ہے، جس میں پانی سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، کیا ایسی نمازیں قبول ہوں گی؟ ایسی نمازوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔
تیمم کی اجازت صرف ایسی صورت میں ہے کہ پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو، جو شخص پانی استعمال کرسکتا ہے، اس کا تیمم جائز نہیں، نہ اس کی نماز صحیح ہوگی۔ اور پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ پانی میسر ہی نہ آئے، یہ صورت عموماً سفر میں پیش آسکتی ہے، پس اگر پانی ایک میل دُور ہو، یا کنواں تو ہے مگر کنویں سے پانی نکالنے کی کوئی صورت نہیں، یا پانی پر کوئی درندہ بیٹھا ہے، یا پانی پر دُشمن کا قبضہ ہے اور اس کے خوف کی وجہ سے پانی تک پہنچنا ممکن نہیں، تو ان تمام صورتوں میں اس شخص کو گویا پانی میسر نہیں اور وہ تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔(۱)
دُوسری صورت یہ ہے کہ پانی تو موجود ہے مگر وہ بیمار ہے اور وضو یا غسل سے جان کی ہلاکت کا یا کسی عضو کے تلف ہوجانے کا یا بیماری کے طول پکڑ جانے کا اندیشہ ہے، یا خود وضو یا غسل کرنے سے معذور ہے اور کوئی دُوسرا آدمی وضو اور غسل کرانے والا موجود نہیں، تو ایسا شخص تیمم کرسکتا ہے۔(۲)
جو خواتین ان معذوریوں کے بغیر تیمم کرلیتی ہیں ان کا تیمم کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ اور طہارت کے بغیر نماز کیسے صحیح ہوسکتی ہے۔۔۔؟(۳)
- (۱) ومن لم یجد الماء وھو مسافر المراد من الوجود القدرۃ علی الْإستعمال حتّٰی أنہ لو کان مریضًا أو علٰی رأس بئر بغیر دلو أو کان قریبًا من عین وعلیھا عدوّ أو سبع أو حیۃ لَا یستطیع الوصول إلیہ لَا یكون واجدًا۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۰، طبع بمبئی)۔
- (۲) أو کان یجد الماء إلّا أنہ مریض إلٰی آخرہ المریض لہ ثلاث حالَات إحداھا إذا کان یستضر بإستعمال الماء كمن بہ جددی أو حمی أو جراحۃ یضرہ الْإستعمال فھٰذا یجوز لہ التیمم إجماعًا والثانیۃ إن کان لَا یضرہ إلّا الحركۃ إلیہ ولَا یضرہ الماء کالمبطون وصاحب العرق المدینی فإن کان لَا یجد من یستعین بہ جاز لہ التیمم أیضًا إجماعًا ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۱)۔
- (۳) دیکھئے: رد المحتار علٰی الدر المختار ج:۱ ص:۲۲۹، باب التیمم)۔

