تیمم
پانی نہ ملنے پر تیمم کیوں؟
سوال:۔
پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرایا جاتا ہے، اس میں کیا مصلحت ہے؟
جواب:۔
میرے بھائی! ہمارے لئے سب سے بڑی مصلحت یہی ہے کہ اللہ پاک کا حکم ہے اور رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے۔ ویسے قرآنِ کریم نے اس کی مصلحتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
’’اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے، بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے، تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ (سورۂ مائدہ)(۱)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ شانہ نے پانی نہ ملنے کی صورت میں مٹی کو پاک کرنے والی بنایا ہے، جس طرح پانی انسانی بدن کو پاک کرنے والا ہے، اسی طرح پانی پر قدرت نہ ہونے کی حالت میں مٹی سے تیمم کرنا بھی پاک کرنے والا ہے، حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندیؒ اپنے ترجمے کے فوائد میں لکھتے ہیں:
’’مٹی طاہر ہے اور بعض چیزوں کے لئے مثل پانی کے مطہر بھی ہے، مثلاً خف (چمڑے کا موزہ)، تلوار، آئینہ وغیرہ۔ اور جو نجاست زمین پر گر کر خاک ہوجاتی ہے وہ بھی پاک ہوجاتی ہے۔ اورنیز ہاتھ اور چہرہ پر مٹی ملنے میں عجز بھی پورا ہے، جو گناہوں سے معافی مانگنے کی اعلیٰ صورت ہے۔ سو جب مٹی ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی نجاست کو زائل کرتی ہے، تو اس لئے بوقتِ معذوری پانی کے قائم مقام کی گئی، اس کے سو امقتضائے آسانی و سہولت جس پر حکمِ تیمم مبنی ہے، یہ ہے کہ پانی کی قائم مقام ایسی چیز کی جائے جو پانی سے زیادہ سہل الوصول ہو۔ سو زمین کا ایسا ہونا ظاہر ہے، کیونکہ وہ سب جگہ موجود ہے، مع ہذا خاک انسان کی اصل ہے اور اپنی اصل کی طرف رُجوع کرنے میں گناہوں اور خرابیوں سے بچاؤ ہے، کافر بھی آرزو کریں گے کہ کسی طرح خاک میں مل جائیں، جیسا کہ پہلی آیت میں مذکور ہوا۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ، سورۂ نساء آیت:۴۳)
- (۱) ﵟ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُم مِّنۡ حَرَجٖ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ﵞ المائدة ٦۔

