کنچیزوںسےغسلواجبہوجاتاہےاورکنسےنہیں؟
سونے میں ناپاک ہوجانے کے بعد غسل
سوال:۔
اگر کوئی شخص سوتے میں ناپاک ہوجائے تو کیا اس پر غسل ضروری ہے؟ اور کیا وہ اس حالت میں کھاپی سکتا ہے؟ اگر کسی چیز کو ہاتھ لگادے تو کیا وہ ناپاک ہوجائے گی؟
جواب:۔
سوتے میں آدمی ناپاک ہوجائے تو اس سے غسل فرض ہوجاتا ہے،(۱) مگر اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(۲) جب غسل فرض ہو تو اس حالت میں کھانا پینا جائز ہے،(۳) اور ہاتھ صاف کرکے کسی چیز کو ہاتھ لگایا جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوتی۔(۴)
- (۱) وإن استیقظ فوجد فی احلیلہ بللًا ولم یتذکر حلما ۔۔ إذا نام مضطجعًا أو تیقن أنہ منی فعلیہ الغسل۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۲۷۰، مطلب فی تحریر الصاع والمد)۔
- (۲) فإن نام فاحتلم لم یفطر لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ثلاث لَا یفطرن الصیام: القیء والحجامۃ والْإحتلام۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۱۷، طبع شركت علمیہ، ملتان)۔
- (۳) وإن أراد أن یأكل أو یشرب فینبغی أن یتمضمض ویغسل یدیہ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۶، طبع بلوچستان)
- (۴) عن القاسم بن محمد قال: قالت عائشۃ: قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ناولینی الخمرۃ من المسجد، قالت: قلت: إنّی حائض! قال: إنّ حیضتك لیست فی یدك۔ (جامع ترمذی ج:۱ ص:۱۹، طبع دھلی)۔

