غسلکےمسائل
ناپاکی میں استعمال کئے گئے کپڑوں، برتنوں وغیرہ کا حکم
سوال:۔
اگر ایک ناپاک آدمی کسی شے کا استعمال کرے، مثلاً: بستروں، کپڑوں، برتنوں کا تو یہ اشیاء ناپاک ہوجاتی ہیں یا نہیں؟ کیونکہ رات کو مجھے احتلام ہوگیا، میں نے دُوسری دوپہر کو غسل کیا مگر رات اسی وقت غلاظت صاف کرلی تھی۔
جواب:۔
ناپاکی کی حالت میں کھانا پینا اور دیگر اُمور جائز ہیں،(۱) اور جنبی آدمی کے استعمال کرنے سے یہ چیزیں ناپاک نہیں ہوتیں، لیکن غسل میں اتنی تأخیر کرنا کہ نماز کا وقت قضا ہوجائے، حرام اور سخت گناہ ہے۔(۲)
- (۱) قال فی تنویر الأبصار: ویكرہ لہ قراءۃ التوراۃ وإنجیل وزَبور ولَا قنوت وقال فی الدر: ولَا أكلہ وشربہ بعد غسل ید وفم۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۱ ص:۱۷۵، مطلب یطلق الدعاء علٰی ما یشمل الثناء، كتاب الطھارۃ)۔
- (۲) ص:۱۹۵ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ فرمائیں۔

