بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

غسل اور وضو میں شک کی کثرت

سوال:۔

غسل اور وضو کرتے ہوئے پانی کافی بہاتا ہوں اور غسل اور وضو سے فراغت کے بعد بے انتہا شک کرتا ہوں کہ کہیں بال برابر جگہ خشک نہ رہ گئی ہو، آپ کچھ اس شک کے بارے میں حل بتلادیں۔

جواب:۔

غسل اور وضو سنت کے مطابق کریں، یعنی تین تین بار اعضاء پر پانی بہالیں،(۱) اس کے بعد شک کرنا غلط ہے، خواہ کتنے ہی وسوسے آئیں کہ کوئی بال خشک رہ گیا ہوگا، مگر اس کو شیطانی خیال سمجھیں اور اس کی کوئی پروا نہ کریں۔(۲)

  1. (۱) وأما سُننہ فھی أن یبدأ ۔۔۔ ثم یتوضأ وضوئہ للصلاۃ ثلاثًا ثلاثًا إلّا أنہ لَا یغسل رجلیہ حتّٰی یفیض الماء علٰی رأسہ وسائر جسدہ ثلاثًا ثم یتنحی فیغسل قدمیہ ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۳۴، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) عن أبیّ بن كعب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن للوضوء شیطانًا یقال لہ: الولھان، فاتقوا وسواس الماء۔ (ترمذی ج:۱ ص:۹ باب کراھیۃ الْإسراف فی الوضوء)