غسلکےمسائل
غسل نہ کرنے میں دفتری مشغولیت کا عذر قابلِ قبول نہیں
سوال:۔
ایک شخص پر غسل فرض ہے، لیکن دفتر کو بھی دیر ہو رہی ہے، ایسی صورت میں اوقاتِ کار کے دوران تیمم کرکے نمازیں پڑھنا جائز ہے یا اس وقت تک نماز ترک کرتا رہے جب تک غسل نہ کرلیتا؟
جواب:۔
شہر میں پانی کے موجود ہوتے ہوئے تیمم کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اور یہ عذر کہ دفتر جانے میں دیر ہو رہی ہے، لائقِ سماعت نہیں۔(۱) جب اس شخص پر غسل فرض ہے تو اس کو نمازِ فجر سے پہلے اُٹھ کر غسل کا اہتمام کرنا چاہئے، غسل میں اتنی تأخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے حرام اور سخت گناہ ہے۔(۱)
- (۱) قال أبوجعفر: ویتیمم فی غیر الأمصار والقریٰ إذا أعوز الماء قال أبوبكر: وذالك لقول اللہ تعالٰی: ﵟ٠فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا ﵞ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۱۴ باب التیمم)۔
- (۲) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۲۔

