بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

واجب غسل میں تاخیر کرنا

سوال:۔

ہم بستری کرنے کے بعد فوراً غسل نہ کیا جائے تو کیسا ہے؟ عورت کی جب صبح آنکھ کھلی تو نماز کا وقت جاچکا تھا، لہٰذا گھر کے کام کاج میں مصروف ہوگئی، اور ظہر سے قبل غسل کرلیا، کیا اس دوران کھانا پینا یا کھانا پکانا وغیرہ صحیح ہے؟

جواب:۔

غسل میں اتنی تأخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے، حرام ہے،(۱) غسل کے بغیر کلی کرکے کھانا پینا اور پکانا جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُواْ ٱلشَّهَوَٰتِۖ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا ٥٩ إِلَّا مَن تَابَ ﵞ۔ قال ابن مسعود: لیس معنی أضاعوھا تركوھا بالكلیۃ، ولٰـكن أخروھا عن أوقاتھا ۔۔۔۔ وقال تعالٰی: ﵟفَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ ٤ ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ ٥ﵞ۔ قال صلی اللہ علیہ وسلم: ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا۔ (الزواجر عن إقتراف الكبائر ج:۱ ص:۱۳۳)
  2. (۲) وإن أراد أن یأكل أو یشرب فینبغی أن یتمضمض ویغسل یدیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۶)۔