بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

حالتِ جنابت میں کھانے پینے کی اجازت

سوال:۔

کافی دنوں سے سنتے آئے ہیں کہ احتلام کے بعد یعنی جنابت کی حالت میں غسل کرنے سے پہلے کھانا پینا حرام ہے، باقی جب کوئی مجبوری ہو، یعنی پانی وغیرہ غسل کے لئے نہ ہو تو اس حالت میں، یا زیادہ بھوک یا پیاس لگنے کی حالت میں آدمی وضو کرے، جس میں غرارے کرے اور ناک میں پانی پہنچائے پھر کچھ کھاپی سکتا ہے؟

جواب:۔

جنابت کی حالت میں کھانے پینے کی اجازت ہے، البتہ بغیر کلی کئے پانی پینا مکروہِ تنزیہی ہے اور اس میں صرف پہلا گھونٹ مکروہ ہے، کیونکہ یہ پانی منہ کی جنابت زائل کرنے میں استعمال ہوا ہے، اسی طرح ہاتھ دھونے سے قبل کچھ کھانا پینا مکروہِ تنزیہی ہے۔(۱)

  1. (۱) ویكرہ لہ قراءۃ توراۃ وإنجیل وزَبور لَا قنوت ۱۲ تنویر۔ وقال فی الدر: ولَا أكلہ وشربہ بعد غسل ید وفم وفی الشامیۃ: قولہ: (بعد غسل ید وفم) أما قبلہ فلا ینبغی لأنہ یصیر شاربًا للماء المستعمل وھو مكروہ تنزیھًا، ویدہ لَا تخلو عن النجاسۃ فینبغی غسلھا ثم یأكل۔ ’’بدائع‘‘ (رد المحتار ج:۱ ص:۱۷۵، مطلب یطلق الدعاء علٰی ما یشمل الثناء، كتاب الطھارۃ، وكذا فی حلبی كبیر ص: ۶۰، مطلب فی أصح القولین)۔