بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

قضائے حاجت اور غسل کے وقت کس طرف منہ کرے؟

سوال:۔

غسل کرتے وقت کون سی سمت ہونی چاہئے؟ آج کل غسل خانہ اور بیت الخلاء ایک ساتھ ہی ہوتے ہیں، ایسے میں غسل کے لئے کس طرح سمت کا انداز لگایا جائے؟ نیز بیت الخلاء کے لئے کون سی سمت مقرّر ہے؟

جواب:۔

قضائے حاجت کے وقت نہ تو قبلہ کی طرف منہ ہونا چاہئے اورنہ قبلہ کی طرف پیٹھ ہونی چاہئے، قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔(۱) غسل کی حالت میں اگر غسل بالکل برہنہ ہوکر کیا جارہا ہو تو اس صورت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، بلکہ رُخ شمالاً جنوباً ہونا چاہئے، اور اگر ستر ڈھانک کر غسل کیا جارہا ہو تو اس صورت میں کسی بھی طرف رُخ کرکے غسل کیا جاسکتا ہے۔(۲)

  1. (۱) عن أبی أیوب الأنصاری قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا أتیتم الغائط فلا تستقبلوا القبلۃ ولَا تستدبروھا ولٰـكن شرقوا أو غربوا۔ متفق علیہ۔ (مشكوٰۃ ج:۱ ص:۴۲، باب آداب الخلاء)۔ أیضًا: ویكرہ تحریمًا استقبال القبلۃ واستدبارھا۔ (نور الْإیضاح ص:۳۰، فصل فی الْإستنجاء)۔
  2. (۲) (انہ لَا یستقبل القبلۃ) حال اغتسالہ (لأنہ یكون غالبًا مع كشف العورۃ) فإن کان مستورًا فلا بأس بہ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۵۷، فصل وآداب الْإغتسال ھی)۔